جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیسیٹلائٹ ڈیٹا سے ایران کے اسرائیلی فوجی اڈوں پر کاری وار بے...

سیٹلائٹ ڈیٹا سے ایران کے اسرائیلی فوجی اڈوں پر کاری وار بے نقاب
س

لندن / تہران[مشرق نامہ]:برطانوی اخبار ٹیلیگراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے تجزیہ کی گئی سیٹلائٹ امیجری سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ماہ کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل کے کم از کم پانچ فوجی ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے چھ میزائل شمالی، وسطی اور جنوبی مقبوضہ علاقوں میں واقع اہداف پر لگے، جن میں ایک انٹیلی جنس سینٹر اور ایک لاجسٹکس بیس بھی شامل ہیں۔

یہ انکشافات ریڈار سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر کیے گئے، جن سے ایسے دھماکوں کے شواہد ملے جو میزائل حملوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تاہم اسرائیلی حکومت نے سخت سنسرشپ قوانین کے باعث ان حملوں کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا، اور اسرائیلی فوج نے ٹیلیگراف کے رابطہ کرنے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسرائیل کے فوجی سنسر قوانین جاری جنگ کے دوران حساس سیکیورٹی معلومات کی اشاعت پر پابندی عائد کرتے ہیں۔

جنگ کے دوران اسرائیلی حکام اور امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے تقریباً 84 فیصد میزائل اسرائیلی و امریکی دفاعی نظاموں نے روک لیے تھے۔ تاہم ٹیلیگراف کے مطابق ابتدائی آٹھ دنوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ایرانی میزائل اسرائیل کے انتہائی ترقی یافتہ دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ طور پر تین وجوہات کی بنا پر ممکن ہوا:

  • دفاعی میزائلوں کی محدود تعداد
  • ایران کی جدید ٹیکنالوجی
  • اور حملے کے انداز میں اسٹریٹیجک تبدیلی

رپورٹ کے مطابق، ایران نے حملے کے دوران میزائلوں کے ساتھ ساتھ خودکش ڈرونز بھی استعمال کیے تاکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو بیک وقت کئی سمتوں سے الجھایا جا سکے۔ اگرچہ بہت سے ڈرون راستے میں ہی مار گرائے گئے، مگر ان کا مقصد دفاعی نظام کو الجھانا اور میزائلوں کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔

ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:ڈرونز کا اصل مقصد ان کے دفاعی نظام کو مصروف رکھنا ہے۔ کئی ڈرون مار دیے جاتے ہیں، مگر وہ پھر بھی دفاعی نظام میں خلل پیدا کر کے میزائلوں کو راستہ دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیلی ریاست نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران کئی اعلیٰ ایرانی کمانڈرز، ایٹمی سائنسدان اور عام شہری شہید ہوئے۔ ایران نے 24 گھنٹے کے اندر بھرپور جوابی کارروائی کی اور میزائل و ڈرون حملے کیے، جس کے بعد True Promise III نامی مسلسل جوابی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

22 جون کو امریکہ کھل کر اسرائیل کے حق میں میدان میں اترا اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے تین ایٹمی مراکز پر بمباری کی۔

جواباً ایران نے قطر میں واقع امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید ایئر بیس پر میزائل حملہ کیا، جسے ایران نے اپنی خود دفاعی کارروائی قرار دیا۔

شدید دباؤ اور اندرونی ابتری کے باعث اسرائیلی حکومت کو 24 جون کو یکطرفہ طور پر جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین