علی لاریجانی کا حالیہ انٹرویو، جس میں انہوں نے 12 روزہ جنگ سے متعلق گہرے تجزیے اور خطے کی سیاست پر منفرد زاویے پیش کیے، سیاسی و میڈیا حلقوں میں غیر معمولی طور پر وسیع پیمانے پر بازتاب حاصل کر چکا ہے۔
اس گفتگو کا بھرپور استقبال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب بھی عقلی اور اسٹریٹجک آواز کی قدر کرتے ہیں۔
جنگ کے دوران مجھے براہ راست قتل کی دھمکی دی گئی!
علی لاریجانی نے حالیہ جنگ میں دشمنوں کی جانب سے براہِ راست قتل کی دھمکی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"مجھے فون کر کے کہا گیا کہ تمھارے پاس صرف 12 گھنٹے ہیں ملک چھوڑنے کے لیے، ورنہ تمھیں قتل کر دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے رویے کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح ہوا کہ ان کا خیال تھا عوام حکومت سے دور ہو جائیں گے، مگر جیسا کہ دشمنوں نے توقع کی تھی، ویسا نہیں ہوا۔ ایرانی قوم نے زیادہ اتحاد اور ہمبستگی کے ساتھ حکومت کا ساتھ دیا۔
یہ بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی عوام نے بیرونی دباؤ اور دشمنوں کی سازشوں کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
اسرائیل کمتر ثابت ہوا
لاریجانی نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی سازش کے تحت ایک مخصوص اجلاس میں ریاستی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ان کے مطابق:
"اسرائیل کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ پہلے ریاستی سربراہان پر حملہ کیا جائے اور اس کے بعد رہبر انقلاب کو نشانہ بنایا جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے پہلے ہفتے کا پیر کا دن نہایت اہم تھا۔ اس دن جو فیصلے کیے گئے، وہ جنگ کے مجموعی رجحان پر گہرے اثرات کے حامل تھے۔
نظام کو گرانے کی سازش کی ناکامی؛ ایرانی عوام کی ثقافت اور شناخت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ
لاریجانی نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے ایک مکمل آپریشن ترتیب دیا تھا جس کا مقصد نظامِ جمہوری اسلامی کو گرانا تھا، لیکن ان کی یہ منصوبہ بندی اس لیے ناکام رہی کہ انہوں نے ایرانی قوم کی ثقافت، تہذیب، اور تاریخی شناخت کو سمجھنے میں سنگین غلطی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ:
"نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکہ، کبھی ایرانی عوام کی اصل مزاحمت، ثقافتی اساس، اور تاریخی بُنیاد کو سمجھ پائے۔ یہی ان کی شکست کا اصل راز ہے۔”
دشمن کی غلط حکمتِ عملی اور ایرانی میزائلوں کا جنگ کے توازن کو بدلنے میں فیصلہ کن کردار
علی لاریجانی، جو رہبر معظم کے مشیر بھی ہیں، نے کہا:
"امریکہ اور اسرائیل کا اندازہ تھا کہ وہ پانچ یا چھ دن میں ایرانی نظام کو ختم کر دیں گے، لیکن ان کی یہ محاسباتی غلطی ثابت ہوئی۔”
انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نتانیاہو پر بھی طنز کیا اور کہا:
"نتانیاہو کی شکل سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کچھ زیادہ سمجھ نہیں آتی۔”
ان کے مطابق، نتانیاہو کی تمام تر کوششیں ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھیں، لیکن ایرانی میزائلوں کی طاقت نے جنگ کی نوعیت ہی بدل دی۔
اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی میں تبدیلی اور آخری ایام میں ثالثوں کی مداخلت
لاریجانی نے کہا کہ جنگ کے دوران ایران میں پیدا ہونے والی سماجی فضا نے اسرائیل کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہیں احساس ہو گیا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا:
"31 خرداد بروز ہفتہ ثالثین مذاکرات میں شامل ہوئے۔ وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ اسرائیل ایک نازک اور دشوار صورتحال میں آ چکا ہے۔”
ٹرمپ کا فریب اور 12 روزہ جنگ میں دشمن کی نفسیاتی مہم کی ناکامی
رہبر معظم کے مشیر علی لاریجانی نے اسرائیل و امریکہ کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا کہ وہ دو ہفتے انتظار کرے گا تاکہ ایران کسی نتیجے پر پہنچے۔ لیکن یہ محض ایک فریب تھا۔ دو دن بعد ہی اس نے ایران پر حملے کا حکم دے دیا۔”
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جنگ کے دسویں دن امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — پر حملہ کیا۔
لاریجانی نے کہا:
"حملے کے فوراً بعد امریکی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ایران کی تمام جوہری صنعتوں کو تباہ کر دیا ہے اور اب جنگ کے خاتمے پر فیصلہ ہونا چاہیے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے دشمنوں نے نفسیاتی آپریشن کے ذریعے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن اس میں ناکام رہے۔
"عوام میدان میں آئے، نظام کے پیچھے کھڑے ہو گئے، اور آج امریکہ و اسرائیل جنگ کے خاتمے کی تلاش میں ہیں۔”
بیرونی دھمکیوں کی بے وقعتی اور عرب ممالک کی ایران کے حق میں حمایت
لاریجانی نے بین الاقوامی اداروں کی بے اثری اور دھمکیوں کی کھوکھلی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
"جب ٹرمپ کہتا ہے کہ ہم 60 دن کی مہلت دے رہے ہیں تاکہ آپ ہتھیار ڈال دیں، تو اس کا مطلب ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دھمکیاں محض ذہنی دباؤ ڈالنے اور دھوکہ دینے کی کوششیں تھیں۔
اسی ضمن میں انہوں نے عرب ممالک کی پوزیشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"اسرائیل کوشش کر رہا تھا کہ دوسرے ممالک کو ایران سے دور کرے، لیکن عرب ممالک نے ایران کے نظام کا ساتھ دیا۔”
انہوں نے دشمن کی جنگی منطق کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا:
"وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ جنگ میں اترے، کتنا مضحکہ خیز دعویٰ ہے!”
قطر میں امریکی اڈے پر 6 ایرانی میزائلوں کی ضرب؛ ٹرمپ کا ردعمل اور انکار
علی لاریجانی نے اس حوالے سے اہم تفصیلات فراہم کیں کہ ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر چھ میزائل فائر کیے:
"یہ تمام میزائل 400 کلوگرام کے وار ہیڈز سے لیس تھے اور براہ راست نشانہ لگے، لیکن ٹرمپ نے جھوٹ بولا اور کہا کہ صرف ایک میزائل لگا ہے!”
جنگ کے اختتام پر دشمنوں کی گڑگڑاہٹ
لاریجانی نے جنگ کی ڈائنامکس میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"2 تیر کو، یعنی جنگ کے آخر میں، دشمن جنگ کے خاتمے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ وہی دشمن جو پہلے یہ سمجھتا تھا کہ ایران اس سے رحم کی اپیل کرے گا۔”
"لیکن درحقیقت، جنگ کے آخر میں یہی دشمن خود التجا کر رہا تھا۔”
فردو پر امریکی دعوے کا تمسخر: انہیں خوش رہنے دیں!
فردو کی جوہری تنصیب پر امریکی حملے کے دعوے پر طنز کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا:
"انہیں خوش رہنے دیں، ہم کچھ زیادہ نہیں کہیں گے۔”
یہ بیان اس بات کا غماز ہے کہ ایران امریکی دعووں کو اہمیت نہیں دیتا اور اسے اپنے قومی ارادے اور طاقت پر مکمل اعتماد ہے۔
60 فیصد امریکیوں نے ایران کو 12 روزہ جنگ کا فاتح تسلیم کیا
علی لاریجانی نے جنگ کے اختتام پر امریکی حکام کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:
"امریکی حکام کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر اصل صورتِ حال کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔”
انہوں نے ٹرمپ کی مسلسل جھوٹ گوئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
"حیرت ہے کہ ٹرمپ کس قدر جھوٹ بول سکتا ہے!”
لاریجانی نے امریکی سروے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
"خود امریکہ میں کیے گئے سروے میں 60 فیصد لوگوں نے ایران کو اس جنگ کا فاتح قرار دیا۔”
اسرائیل کا اعتراف: جب تک ایران موجود ہے، ہمیں کوئی نہیں دیکھے گا
انہوں نے اسرائیلی سوچ کا بھی ذکر کیا:
"اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ جب تک ایران اتنی قوت اور عظمت کے ساتھ موجود ہے، ہمارا کوئی وزن یا حیثیت نہیں بنتی۔”
رافائل گروسی بھی 12 روزہ جنگ میں ناکام ثابت ہوئے
لاریجانی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا:
"گروسی ان افراد میں شامل تھے جو اس جنگ میں مکمل طور پر ناکام رہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ :
"بطور ڈائریکٹر جنرل، گروسی نے درحقیقت جنگ کے آغاز کی راہ ہموار کی اور خود کسی مؤثر کردار میں نظر نہیں آئے۔”
18 ایرانی کمانڈروں کی شہادت
انہوں نے جنگ کے دوران ایرانی افواج کے جانی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا٬
"ہماری 18 بڑی عسکری شخصیات اس جنگ میں شہید ہوئیں۔”
لیکن ساتھ ہی انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کا یہ جملہ نقل کیا:
"شہید کا خون ایک نئی تحریک کا آغاز کرتا ہے۔”
فتح ایران، عالمی سطح پر خوشی کا باعث بنی
لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی فتح صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی عوام کے لیے مسرت کا سبب بنی۔
"دنیا بھر کے مختلف طبقات نے ایران کی فتح کو خوشی سے سراہا۔”
ہم اب NPT (جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ) کو کیوں مانیں؟
بین الاقوامی دباؤ اور NPT سے متعلق سوال پر لاریجانی نے کہا:
"دشمن ہماری جوہری طاقت کو بہانہ بنا کر ہم پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اب بھی NPT کی پابندی کرنی چاہیے؟”
انہوں نے پُر یقین لہجے میں کہا:
"جوہری علم و دانش ایران سے ہرگز نہیں اُڑنے والی۔”
تین یورپی ممالک حالیہ جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے
لاریجانی نے یورپی ممالک پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ
"تین یورپی ممالک اس جنگ میں اسرائیل کے پیچھے کھڑے تھے اور ایران کے لیے کچھ نہیں کیا۔”
انہوں نے زور دیا٬
"ایران کو اب بین الاقوامی ایجنسیوں سے تعلقات اور مذاکرات کے طریقے پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔”
چین اور روس بھی امریکہ کی طاقت میں کمی کو سمجھ چکے ہیں
انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے دنیا کو باور کرا دیا کہ امریکہ کی طاقت زوال کا شکار ہے، اور چین و روس جیسے ممالک نے بھی یہ حقیقت محسوس کی ہے۔
یہ نہ بھولیں کہ کل سے عوام کے ساتھ بدسلوکی نہ ہو / رہبر کی قدر کو سمجھنا چاہیے
علی لاریجانی نے ایرانی عوام کی میدان میں موجودگی کو ایک عظیم سبق قرار دیا اور کہا کہ
"یہ افسوسناک ہوگا اگر ہم اس موجودہ فضا کو ضائع کر دیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ٬
"جنگ کے دوران عوام کی شرکت ایک بڑا درس ہے جسے مستقبل کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔”
انہوں نے حکومتی حلقوں کو نصیحت کی اور کہا :
"یہ نہ بھولیں کہ کل سے عوام کے ساتھ نامہربان رویہ اختیار نہ کیا جائے۔”
اس موقع پر انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
"ہمیں اس رہبر کی قدر کرنی چاہیے، جنہوں نے اس جنگ میں بے مثال کردار ادا کیا۔”
الٰہی عنایت اور طاقتور قیادت؛ جنگ کے بعد خارجہ تعلقات کا نیا باب
لاریجانی نے اس بات پر زور دیا کہ:
"اس جنگ کے اصل واقعات خداوند کی عنایت اور حضرت ولی عصرؑ کی نگاہِ کرم کا نتیجہ تھے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ
"اسی الٰہی نگاہ نے ایران کو سخت ترین حالات میں کامیابی عطا کی۔”
انہوں نے ایک دلچسپ لمحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
"جنگ کے پہلے دن، رہبر انقلاب نے نتانیاہو کے بیانات کو دیوار پر دے مارا اور اُسی لمحے اسے سیاسی طور پر گرا دیا۔”
لاریجانی نے زور دیا کہ
"اب ہمیں کچھ ممالک کے ساتھ ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہیے۔”
کئی عرب ممالک خفیہ طور پر ایران کی کامیابی کے لیے دُعا گو تھے
لاریجانی نے کہا:
"اسرائیل اب دوبارہ جنگ چھیڑنے کی جرأت نہیں کرے گا کیونکہ اسے یقین ہو گیا ہے کہ اگلی بار شکست اور بھی سنگین ہوگی۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی ہلاکتیں بھی کم نہ تھیں، لیکن وہ ان نقصانات کو چھپا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ٬
"ایران سچ میں میدان کا فاتح تھا اور خطے کے ممالک کا اسرائیل سے خوف ختم ہو گیا۔”
"بہت سے ممالک اب اسرائیل سے دوری اختیار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں: ‘جب تم مار کھا چکے ہو تو ہم کیوں تمھاری پیروی کریں؟’”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ
"آج ایران مقبولیت کی انتہا پر ہے۔ بہت سے عرب ممالک ہمیں فون کر کے کہتے تھے کہ ہم دعا گو ہیں کہ آپ جیتیں۔”
"ایران اپنی طاقت بحال کرے گا اور مستقبل کے لیے تیار ہوگا۔”
میدانی جنگ میں اسرائیل کی شکست اور دشمن کی چالاکیوں سے خبردار رہنے کی ضرورت
لاریجانی نے خبردار کیا کہ:
"ایسے ناقص معیار کے دشمن جیسے اسرائیل، جو میدانی جنگ میں شکست کھاتے ہیں، وہ چھوٹے پیمانے پر شرارتوں کا سہارا لیتے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ:
"ایسے اقدامات کے خلاف ہوشیار رہنا ضروری ہے۔”
آخر میں انہوں نے کہا کہ
"خداوند نے اس جنگ میں ہم پر بہت فضل فرمایا۔ یہ ایک عظیم واقعہ تھا، اور ایرانی قوم نے عظیم کارنامہ انجام دیا۔”

