تحریر: منیب الرحمٰن
ماحولیاتی مسائل آج کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں اور 21ویں صدی کے سب سے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔ پاکستان کا گرین ہاؤس گیسز (GHG) کے عالمی اخراج میں حصہ دنیا کے کم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جبکہ بلوچستان کا حصہ تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان، خصوصاً بلوچستان، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔
بلوچستان کی سخت اور بنجر زمین، پانی کی شدید قلت، دریاؤں کی عدم موجودگی، اور چھوٹی آبادی جو ایک وسیع رقبے میں پھیلی ہوئی ہے، اس علاقے کو ہمیشہ ہی بقا کی جنگ میں مصروف رکھتی ہے۔ اب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس میں غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی — اور یہ خطرہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔
بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے عالمی اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں، جن میں شدید بارشیں، طوفان، سمندر کی سطح میں اضافہ، شدید موسمی حالات کی زیادتی، صحت کے مسائل، فصلوں اور مویشیوں کی پیداوار میں کمی، غذائی قلت، اور چھوٹے آبی ذخائر کی بندش شامل ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے صوبے کا ہائیڈرولوجیکل سائیکل (آبی چکر) بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پہلے مون سون میں تین یا چار بار بارشیں ہوا کرتی تھیں، اب یا تو اچانک شدید بارش آتی ہے جس سے سیلاب آ جاتا ہے، یا پھر کئی مہینوں تک بارش نہیں ہوتی۔
پانی کی قلت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کوئٹہ میں پانی کی فراہمی میں 50 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور گذشتہ ایک دہائی میں بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کی سطح 5 سے 10 میٹر تک نیچے جا چکی ہے۔ اوسط بارشوں میں کمی کی وجہ سے پانی کے ذخائر دوبارہ بھر نہیں پاتے، جبکہ بغیر کسی واضح پالیسی کے ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی کا نکالنا صورتحال کو مزید بگاڑ رہا ہے۔
بلوچستان کا روایتی کاریز نظام، جو زیر زمین پانی کا ایک قدیم نظام تھا، تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ شمالی بلوچستان اور وسطی علاقوں کے پہاڑی خطوں میں برفباری معمول تھی، مگر اب اس کی شدت اور تسلسل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ کوئٹہ شہر، جو کبھی اپنی برفباری کی وجہ سے ’چھوٹا لندن‘ کہلاتا تھا، اب کئی سالوں سے برفباری سے محروم ہے۔ صرف اردگرد کے پہاڑوں پر ہلکی پھلکی برف دیکھنے کو ملتی ہے۔
موسمی پیٹرن میں تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافے نے مصنوعی ٹھنڈک (cooling) کی مانگ بڑھا دی ہے۔ پانی کی قلت، خوراک کا عدم تحفظ، صحت کے خطرات، اور توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے سبب یہ خدشہ موجود ہے کہ لوگ بلوچستان سے ہجرت کر کے دوسرے صوبوں کا رخ کریں گے، جس سے سماجی و سیاسی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
شمالی بلوچستان کبھی پھلوں اور گھنے درختوں سے بھرپور علاقہ ہوتا تھا اور کوئٹہ کو ملک کی ’فروٹ باسکٹ‘ کہا جاتا تھا۔ مگر گذشتہ پانچ سے چھ سالوں میں درجہ حرارت میں اضافے اور پانی کی کمی کی وجہ سے درختوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
بلوچستان کے موسمیاتی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی موافقت (adaptation) کو مرکزی حیثیت دی جائے، ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط کیا جائے، اور وسائل کے انتظام میں مقامی برادریوں کو شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر کے موسمیاتی بحران کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، اور پائیدار ترقی کے ذریعے علاقے کے سماجی و معاشی حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان کے بعض اضلاع — جیسے نصیرآباد، جعفرآباد، لسبیلہ، جھل مگسی، بولان، خضدار، قلعہ سیف اللہ، اور قلعہ عبداللہ — ہر سال سیلاب کی زد میں آتے ہیں، البتہ شدت مختلف ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے ہر سال ہزاروں لوگ متاثر اور بے گھر ہوتے ہیں۔ بلوچستان کا ساحلی علاقہ جو پاکستان کے ساحل کا تقریباً 70 فیصد ہے، سمندر کی سطح میں اضافے سے شدید خطرے کا شکار ہے، جس سے طوفانوں کا خطرہ اور نمکین پانی کا زمینی پانی میں شامل ہونا ماہی گیری، ساحلی ماحولیاتی نظام اور مقامی معاش پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
بلوچستان کی مخصوص سماجی و ماحولیاتی کمزوریاں اسے موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا شکار بنا رہی ہیں، جو کمزور انفراسٹرکچر، محدود ٹیکنالوجی، اور معاشی مسائل سے مزید بگڑ رہی ہیں۔ بلوچستان کو بیک وقت فوری موسمیاتی اثرات سے نمٹنے اور اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی دوہری ذمہ داری کا سامنا ہے۔
بلوچستان کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے اور آنے والے خطرات سے بچنے کے لیے اب مؤثر اقدامات، مربوط حکمت عملی، اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے — کیونکہ وقت کم ہے، اور خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

