تہران (مشرق نامہ)– اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایران میں انسانی و ترقیاتی امداد کے لیے اقوامِ متحدہ کے بجٹ کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔
یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر اسٹیفن پریزنر نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران امید ظاہر کی کہ عالمی برادری اس اضافے کے لیے فنڈنگ میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ’’ہم فی الوقت 2025 کے بجٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا اضافہ ہوگا، ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کتنی رقم درکار ہوگی، لیکن ہمارا تخمینہ ہے کہ فنڈنگ کم از کم دوگنا ہونی چاہیے۔
پریزنر کے مطابق گزشتہ برس ایران میں یو این کا کل ترقیاتی اور انسانی امدادی بجٹ 7 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا، جس میں سے تقریباً 5 کروڑ ڈالر پناہ گزینوں کے لیے جبکہ 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص تھے۔
ایران اس وقت دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی میزبانی کر رہا ہے، جن کی تعداد 35 لاکھ کے قریب ہے، جن میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے۔
تہران سے گفتگو کرتے ہوئے پریزنر نے کہا کہ امداد اور ترقی کو دیگر سیاسی یا سلامتی کے معاملات سے الگ سمجھا جانا چاہیے، اور موجودہ صورت حال عالمی برادری کو مزید حمایت پر آمادہ کرے گی۔
خیال رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر شدید فضائی حملے کیے جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ حملے ایرانی فوجی اڈوں، جوہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جس کے بعد ایران نے بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائی کی اور اسرائیل کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ 24 جون کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو گئی۔
پریزنر نے بتایا کہ 2022 میں اقوامِ متحدہ اور ایران کے درمیان ایک پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے پر اتفاق ہوا تھا، جس میں صحتِ عامہ، سماجی و معاشی استحکام، ماحولیاتی تحفظ، قدرتی آفات کی روک تھام اور منشیات پر قابو جیسے شعبے شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اب یو این اور ایرانی حکومت کے درمیان اس منصوبے کو حالیہ جنگی حالات کے تناظر میں دوبارہ ترتیب دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ان کے مطابق ایران میں اقوامِ متحدہ کے تقریباً 50 بین الاقوامی اور 500 مقامی ملازمین کام کر رہے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کے آغاز پر کچھ ملازمین اور ان کے خاندانوں کو عارضی طور پر نقل مکانی کرنا پڑی، تاہم یو این کے تمام معمولات اتوار سے بحال ہو چکے ہیں۔

