واشنگٹن ڈی سی (مشرق نامہ)– امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ارب پتی تاجر ایلون مسک کو ملک بدر کرنے کے امکان کو رد نہیں کیا، جب منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے ان سے اس حوالے سے سوال کیا۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے اور امریکی شہریت رکھنے والے مسک کے بارے میں ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’میں نہیں جانتا، ہمیں اس پر نظر ڈالنا ہوگی۔‘‘
یہ بیان ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے درمیان ایک تازہ عوامی کشمکش کا حصہ ہے، جس کی بنیاد ریپبلکن ٹیکس بل پر مسک کی شدید تنقید ہے۔ اس قانون سازی کے تحت بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر دی جانے والی صارف کریڈٹ جلد ختم ہو جائے گی۔ ٹیسلا کمپنی کے سی ای او مسک کی کمپنی کے حصص منگل کے روز مارکیٹ کھلنے سے قبل 4 فیصد سے زائد کمزور ہو گئے۔
ٹرمپ نے مسک کی مخالفت کو ان سرکاری سبسڈیز کے خاتمے سے جوڑا جو اُن کی کاروباری سلطنت کو فائدہ دیتی رہی ہیں۔ اسی روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی مسک کی کمپنیوں سے سبسڈی واپس لینے کی دھمکی دی، جسے انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں بھی دہرایا۔
صدر کا کہنا تھا کہ مسک ’’اپنا الیکٹرک گاڑیوں کا مینڈیٹ کھو رہے ہیں،‘‘ اور مزید کہا کہ ’’ایلون اس سے بھی کہیں زیادہ کچھ کھو سکتے ہیں۔‘‘
یہ اصطلاح عمومی طور پر اُن ماحولیاتی قوانین کا حوالہ دیتی ہے جو کار ساز اداروں کو زیادہ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ قوانین موجودہ سینیٹ میں زیرِ غور بل سے متاثر نہیں ہوتے، لیکن مجوزہ ٹیکس و اخراجات بل صارفین کو دی جانے والی ٹیکس کریڈٹ ختم کر دے گا، جس نے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
ایلون مسک نے اس قانون سازی کو ’’پاگل پن پر مبنی اخراجاتی بل‘‘ قرار دیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ وہ امریکہ میں تیسری سیاسی جماعت کے قیام میں مدد دے سکتے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ تاثر مسترد کیا ہے کہ ان کی مخالفت کا مقصد اپنی کمپنیوں کو حاصل سرکاری سبسڈی کو برقرار رکھنا ہے۔
2024 کے صدارتی انتخابات میں مسک نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی اور بعد ازاں وفاقی حکومت کے اخراجات کم کرنے والے محکمے ’’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘‘ کی سربراہی بھی سنبھالی، جہاں سے وہ مئی کے آخر میں سبکدوش ہو گئے۔
ٹیکس بل پر مسک کی تنقید کے بعد دونوں شخصیات کے درمیان سوشل میڈیا پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں وقتی سرد مہری آئی تھی۔ لیکن حالیہ دنوں میں مسک نے بل کے خلاف دوبارہ تنقیدی بیانات دیے، جس سے یہ تنازع پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
ٹرمپ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید ہمیں ڈی او جی ای (DOGE) کو ایلون پر لگا دینا پڑے۔ ڈی او جی ای وہ عفریت ہے جو واپس جا کر ایلون کو کھا سکتا ہے۔ کیا یہ ہولناک نہیں ہوگا؟

