تہران (مشرق نامہ)– ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی سائنسی مہارت اور ٹیکنالوجی کسی فوجی جارحیت کے ذریعے مٹائی نہیں جا سکتی۔
انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے CBS News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ "پرامن یورینیم افزودگی کی ٹیکنالوجی اور سائنس کو بمباری سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ گفتگو ایسے وقت میں نشر ہوئی جب صیہونی ریاست نے 13 جون کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بلااشتعال جنگ چھیڑی، جس میں جوہری تنصیبات سمیت کئی دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکا نے اس جارحیت میں پہلے ہی بے مثال فوجی و انٹیلی جنس مدد فراہم کی تھی، اور 12 روزہ جنگ کے اختتام پر خود بھی شامل ہو کر ایران کے وسطی اور شمالی علاقوں میں متعدد جوہری مقامات پر حملے کیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان حملوں میں مذکورہ اہداف “تباہ” کر دیے گئے ہیں، تاہم بعد میں پینٹاگون کی اپنی رپورٹوں نے ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا۔
عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نہ صرف ان نقصانات کی تلافی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وہ تیزی سے ایسا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اندر اس صنعت میں دوبارہ پیش رفت کی نیت موجود ہو — اور وہ نیت موجود ہے — تو ہم نقصان کی مرمت اور ضائع وقت کی تلافی بہت جلد کر لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی جوہری ٹیکنالوجی اب قومی فخر کی علامت بن چکی ہے، اور عوامی سطح پر اس پر فخر کیا جاتا ہے، جیسا کہ اسرائیلی جارحیت کے دوران اس کے دفاع میں پوری قوم نے ثابت کیا۔
"ہم نے 12 دن کی مسلط کردہ جنگ برداشت کی ہے، اس لیے عوام افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے… اس جنگ میں ہم نے اپنی دفاعی صلاحیت کو ثابت کیا،” انہوں نے کہا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ملک فوری طور پر دفاعی ردعمل دے گا۔
’مذاکرات فوری طور پر بحال نہیں ہوں گے‘
جب ان سے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو عراقچی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مذاکرات اتنی جلدی بحال ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کی بحالی سے پہلے یہ یقین دہانی چاہے گا کہ امریکا دوبارہ سفارتی عمل کے دوران کسی فوجی حملے پر نہ اتر آئے۔
"ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں ابھی مزید وقت درکار ہے۔”
یاد رہے کہ فریقین کے درمیان عمان کی ثالثی میں اپریل میں مذاکرات شروع ہوئے تھے جو چھ مراحل تک جاری رہے، مگر یہ عمل بارہا امریکی اور صیہونی مطالبات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوا، جن میں ایران سے افزودگی مکمل طور پر ختم کرنے کا تقاضا شامل تھا — جسے ایران نے دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔
حالیہ امریکی جارحیت نے واشنگٹن کی نیت پر مزید شکوک پیدا کیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی سفارتکاری کو موقع دینا چاہتا تو وہ ایران پر حملہ نہ کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ محض مذاکرات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے دفاع اور خودمختاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔

