واشنگٹن ڈی سی (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کو ملنے والی سرکاری سبسڈیز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو دی جانے والی سبسڈیز کا جائزہ لینے کے لیے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” (D.O.G.E) کو متحرک کیا جانا چاہیے تاکہ قومی قرض میں کمی لائی جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا کہ ’’ایلون شاید انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ سبسڈی حاصل کرنے والا فرد ہو، اور اگر یہ سبسڈیز نہ ہوں تو اُسے اپنا کاروبار بند کر کے واپس جنوبی افریقہ جانا پڑے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’نہ کوئی راکٹ لانچ ہو، نہ سیٹلائٹ، نہ الیکٹرک کار کی تیاری — اور ہمارا ملک کھربوں بچا سکتا ہے۔ شاید ہمیں D.O.G.E کو اس معاملے کا سخت جائزہ لینے دینا چاہیے؟ بہت بڑی بچت ممکن ہے!!!‘‘
ٹرمپ کے ان بیانات کے فوراً بعد ٹیسلا کے شیئرز نیسڈیک کی قبل از مارکیٹ ٹریڈنگ میں پانچ فیصد گر گئے۔
مسک کا دوٹوک ردعمل: "سب بند کر دو”
ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
"I am literally saying CUT IT ALL. Now.”
یعنی ’’میں تو صاف کہہ رہا ہوں: سب بند کرو، ابھی۔‘‘
ٹرمپ نے جواباً کہا کہ مسک اس لیے ناراض ہے کیونکہ وہ نئے ٹیکس اور اخراجاتی بل میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے دی گئی رعایت کھو بیٹھا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ "وہ اس سے بھی زیادہ کچھ کھو سکتا ہے۔”
خزانہ سیکریٹری کا دفاع
خزانے کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے مسک کے اس بیان پر کہ بل قومی قرض کو پھلا دے گا، ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"ملک کے مالیات کی فکر مجھے کرنے دو۔”
’’مسک کو ٹرمپ کی ضرورت ہے، ٹرمپ کو مسک کی نہیں‘‘
ڈینس ڈِک، اسٹاک ٹریڈر نیٹ ورک کے چیف اسٹریٹیجسٹ اور ٹیسلا کے حصص کے مالک نے کہا:
’’مسک کو خود پر قابو نہیں۔ وہ ایک بار پھر ٹرمپ کی ناراضی مول لے رہا ہے۔ ٹیسلا کی عالمی فروخت گر رہی ہے، اور اگر اسے امریکی سبسڈیز نہ ملیں، تو امریکی مارکیٹ بھی کھو سکتا ہے۔‘‘
’’مسک کو ٹرمپ کی ضرورت ہے، ٹرمپ کو مسک کی نہیں۔‘‘
مسک کو ملنے والے 20 ارب ڈالر کے حکومتی معاہدے
فنانشل ٹائمز کی فروری میں شائع رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک کی چھ کمپنیاں امریکی حکومت کے ساتھ تقریباً 20 ارب ڈالر کے معاہدوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، جنہیں مسک میرٹ کی بنیاد پر حاصل کردہ قرار دیتا ہے۔
اسی طرح، ٹیسلا کو ریاستی اور وفاقی حکومتوں سے 2.8 ارب ڈالر سے زائد کی سبسڈی دی جا چکی ہے، جبکہ اسپیس ایکس امریکی خلائی پروگرام میں سب سے غالب قوت بن چکی ہے۔
’’بِگ بیوٹی فل بل‘‘ سے پیدا ہونے والی خلیج
صدر ٹرمپ کے ’’بِگ بیوٹی فل بل‘‘ پر کانگریس میں گھنٹوں بحث جاری رہی، جو کہ سماجی فلاحی پروگراموں میں گہری کٹوتیاں تجویز کرتا ہے لیکن ساتھ ہی 3 کھرب ڈالر کے اضافی قرض کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
اس بل پر مسک نے 30 جون کو سخت تنقید کی، اسے "پاگل پن” قرار دیتے ہوئے ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے کی دھمکی دی:
’’یہ بل جس سے پانچ کھرب ڈالر کا قرض بڑھے گا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم ایک ہی پارٹی کے ملک میں رہتے ہیں — ’پورکی پگ پارٹی‘ میں!!‘‘
بعد ازاں، مسک نے کانگریس کے ان ارکان کو "غدار” قرار دیا جو بل کی حمایت کر رہے ہیں، اور اعلان کیا کہ
’’یہ میری زندگی کا آخری کام ہو، تو بھی میں ان کی پرائمری میں شکست یقینی بناؤں گا۔‘‘
وائٹ ہاؤس کی وضاحت
وائٹ ہاؤس نے مسک کے بیانات کے جواب میں فاکس نیوز پر ٹرمپ کے حالیہ انٹرویو کی نشاندہی کی، جس میں انہوں نے کہا تھا:
’’میں سمجھتا ہوں ایلون بہت زبردست انسان ہے، اور ہمیشہ کامیاب ہوگا۔ وہ ایک ذہین آدمی ہے۔‘‘
ساتھ ہی یہ وضاحت کی گئی کہ مسک کا غصہ ممکنہ طور پر EV سبسڈی کے خاتمے سے پیدا ہوا ہے، جس سے اس کی کمپنی ٹیسلا براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔

