بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایندھن کی بندش: الشفا اسپتال میں ڈائیلَسِس مکمل طور پر معطل

ایندھن کی بندش: الشفا اسپتال میں ڈائیلَسِس مکمل طور پر معطل
ا

غزہ (مشرق نامہ)– مکمل اسرائیلی محاصرے اور بمباری کے باعث غزہ کے سب سے بڑے اسپتال میں ڈائیلَسِس مشینیں بند، سیکڑوں مریض موت کے دہانے پر پہنچ گئے

غزہ پر مکمل اسرائیلی محاصرہ اور نہ تھمنے والی بمباری نے پہلے ہی صحت کے نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ اور اب اس ہفتے، الشفا میڈیکل کمپلیکس میں آخری ڈائیلَسِس مشینیں بھی ایندھن کی کمی کے باعث بند کر دی گئیں۔ اس کے نتیجے میں سیکڑوں مریضوں کو موت کا سامنا ہے — نہ کسی بمباری سے، بلکہ دانستہ محرومی کے ذریعے۔

غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ علاقے کے سب سے بڑے اسپتال میں ڈائیلَسِس کا علاج مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ بجلی کے بغیر، طبی آلات کے بغیر، اور جان بچانے والی ادویات کے بغیر، غزہ کے دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کو خاموشی سے مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ المیہ کوئی حادثاتی واقعہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا، ایندھن کی گاڑیوں کو داخل ہونے سے روکا گیا، اور طبی امداد کی رسائی بند کر دی گئی۔ الشفا میڈیکل کمپلیکس — جو کبھی استقامت کی علامت سمجھا جاتا تھا — اب خود اس جنگ کا شکار بن چکا ہے، جو صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ محاصروں کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔

صحت کے حکام کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں ڈائیلَسِس کے 400 سے زائد مریض ہلاک ہو چکے ہیں، جو مجموعی مریضوں کا تقریباً 40 فیصد ہیں۔ یہ افراد فضائی حملوں میں نہیں مارے گئے، بلکہ اسرائیلی پالیسی، محاصرے، اور ایندھن کی بندش کی وجہ سے موت کے منہ میں گئے۔

اقوام متحدہ: "صحت کا نظام گلا گھونٹا جا رہا ہے”

وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ایندھن نہ پہنچا تو اسپتالوں میں داخل ہر مریض اور زخمی فرد ایک ایسی موت کا شکار ہو سکتا ہے، جسے روکا جا سکتا تھا۔ آج الشفا اسپتال کے راہداریوں میں علاج کی آوازوں کی جگہ ویرانی کی خامشی سنائی دیتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ گردوں کے علاج کی ادویات مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں، اور ڈائیلَسِس کے آلات کی شدید قلت ہے۔ اس کے باوجود سرحدیں بند ہیں، ایندھن کی ترسیل روکی گئی ہے، اور مشینیں بند پڑی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی UNRWA نے بھی اس صورتحال کو طبی گلا گھونٹنے (medical asphyxiation) کی شکل قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

صیہونی افواج نے ڈائیلَسِس سینٹر اور 240 رہائشی یونٹس تباہ کر دیے

گزشتہ ماہ، اسرائیلی قابض افواج نے شمالی غزہ میں واقع نورا الکعبی ڈائیلَسِس سینٹر کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ مرکز انڈونیشین اسپتال سے منسلک تھا، جو غزہ کے شمالی علاقے میں قائم ہے اور اسرائیلی فوج کی مسلسل محاصرے اور حملوں کا نشانہ رہا ہے — یہاں تک کہ جو بھی شخص اسپتال کے صحن میں حرکت کرتا، اس پر فائرنگ کی جاتی۔

اس وقت غزہ کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ اس مرکز کی تباہی کے بعد گردے کے مریضوں کی صحت کو ایک "ناقابل تصور تباہی” کا سامنا ہے۔

وزارت نے اسرائیلی قبضے پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک ایسے خطرناک منصوبے پر عمل کر رہا ہے جس کا مقصد شمالی غزہ کو اسپتالوں اور ماہر علاج گاہوں سے مکمل طور پر خالی کرنا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین