لندن (مشرق نامہ)– برطانیہ کی ہائی کورٹ نے انسانی حقوق کے ان گروہوں کی درخواست مسترد کر دی ہے جنہوں نے برطانوی ساختہ ایف-35 جنگی طیاروں کے پرزہ جات کی اسرائیل کو برآمد روکنے کی قانونی اپیل دائر کی تھی۔ یہ فیصلہ تقریباً 20 ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد سامنے آیا۔
پیر کے روز جاری کردہ 72 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جسٹس میلس اور جسٹس اسٹین نے قرار دیا کہ مقدمے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ آیا عدالت اس امر پر فیصلہ سنا سکتی ہے کہ برطانیہ کو ایک ایسے کثیرالملکی دفاعی منصوبے سے دستبردار ہونا چاہیے جسے حکومتی وزرا برطانیہ کے دفاع کے لیے "انتہائی اہم” قرار دیتے ہیں، صرف اس وجہ سے کہ اس میں شامل کچھ برطانوی پرزہ جات اسرائیل کو فراہم کیے جا سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر غزہ میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ہمارے آئینی نظام میں یہ ایک نہایت حساس اور سیاسی معاملہ ہے جو حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جو پارلیمان اور بالآخر عوام کے سامنے جوابدہ ہے، نہ کہ عدالت کے۔
اپیل پر غور جاری، جزوی کامیابی کا دعویٰ
عدالتی فیصلے کے بعد یہ اطلاع ملی ہے کہ مقدمہ دائر کرنے والے گروہ اپیل پر غور کر رہے ہیں۔ فلسطینی انسانی حقوق کے ادارے "الحق” اور برطانیہ میں قائم "گلوبل لیگل ایکشن نیٹ ورک” (GLAN) نے، جنہوں نے یہ مقدمہ دائر کیا تھا، کہا کہ اگرچہ عدالت ان کے مطالبات کو تسلیم نہ کر سکی، تاہم وہ برطانیہ کی اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی میں "جزوی تعطل”، حکومت کی "جنگی جرائم میں شراکت” کو بے نقاب کرنے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں۔
الحق نے ایک پیغام میں کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور ہماری جدوجہد کا آغاز۔ ہم انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
عدالتی فیصلے پر تنقید
ہیومن رائٹس واچ کی برطانیہ میں ڈائریکٹر، یاسمین احمد، جن کا ادارہ بھی مقدمے میں فریق بنا، نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی طرف سے حکومت کو رعایت دینے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ غزہ کے فلسطینی شہری بین الاقوامی قانون کے تحفظ سے محروم رہ گئے ہیں، حالانکہ عدالت اور حکومت دونوں نے تسلیم کیا کہ برطانوی اسلحہ ممکنہ طور پر ان پر مظالم میں استعمال ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں جن ہولناک مظالم کا مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ اسی وجہ سے ہیں کہ حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان پر قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ یہ احساسِ استثنا، جو اسلحہ کی برآمدات پر پابندی سے انکار کے ذریعے مزید مضبوط ہوا ہے، ہی وہ سبب ہے جس نے فلسطینیوں کے خلاف ناقابل تصور مظالم کو ممکن بنایا ہے۔
پارلیمان کی ذمہ داری، حکومت کا اخلاقی امتحان
لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان رچرڈ برگن نے اس معاملے پر حکومت کو فوری طور پر پارلیمان میں ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب عدالت پر ذمہ داری ڈالنے کا کھیل بند ہونا چاہیے۔ حکومت کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ نسل کشی میں شراکت جاری رکھنا چاہتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے غلط فیصلہ کیا تو ممکن ہے اسے عدالتوں سے زیادہ عوام، تاریخ، اور سب سے بڑھ کر فلسطینی قوم کے فیصلے کا سامنا کرنا پڑے، جو آزادی کی حقدار ہے۔
پس منظر: مقدمے کی ابتدا اور اسلحہ کی برآمدات
یہ قانونی کارروائی اکتوبر 2023 کے آخر میں GLAN اور الحق نے اس وقت شروع کی تھی جب اسرائیل نے غزہ پر حملے کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت کی کنزرویٹو حکومت نے اسلحہ کی برآمدات جاری رکھیں، حالانکہ نومبر 2023 میں برطانوی دفتر خارجہ کے متعلقہ یونٹ نے اس بات پر تحفظات ظاہر کیے تھے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ستمبر 2024 میں لیبر حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد، اس نے تقریباً 30 برآمدی لائسنس معطل کر دیے، جن میں اسرائیل کو براہ راست بھیجے جانے والے ایف-35 کے پرزہ جات بھی شامل تھے۔ تاہم ان پرزہ جات کو معطل نہیں کیا گیا جو ایک عالمی پرزہ جات کے ذخیرے میں شامل ہو کر بالآخر اسرائیل پہنچ سکتے تھے، جس پر قانونی مقدمہ مرکوز رہا۔
برطانیہ میں تیار کیے جانے والے پرزہ جات ایف-35 کے ہر طیارے کا 15 فیصد حصہ ہوتے ہیں۔ یہ جنگی طیارہ اسرائیل نے غزہ، لبنان اور حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔
حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان پرزہ جات کی برآمدات بند کرنے سے عالمی ایف-35 پروگرام اور عالمی امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
GLAN، الحق اور دیگر تین انسانی حقوق کے اداروں نے جواب میں کہا کہ برطانیہ اسلحہ کے تجارت کے عالمی معاہدے اور نسل کشی کی روک تھام کے کنونشن کا رکن ہے، جس کے تحت وہ ایسے اسلحہ کی برآمد روکنے کا پابند ہے جو جنگی جرائم میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اس پابندی سے انکار، عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالتی دستاویزات سے انکشافات
مقدمے کی کارروائی کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آئے، جن میں یہ بات شامل تھی کہ برطانوی دفاعی حکام نے امریکی ہم منصبوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ ایف-35 پروگرام کو متاثر کیے بغیر اسرائیل کو پرزہ جات کی فراہمی معطل کر سکیں، مگر یہ کوشش ناکام رہی۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا کہ دفتر خارجہ کی تشخیصی ٹیم نے اس وقت یہ مؤقف اپنایا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب نہیں کر رہا، اور اسی کے بعد عالمی پرزہ جات کے ذخیرے میں شامل اشیاء کو معطلی سے استثنا دے دیا گیا۔
غزہ میں انسانی المیہ
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک 56,500 سے زائد فلسطینی شہید اور 1,33,419 زخمی ہو چکے ہیں۔

