بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامینیٹو کی بڑھتی عسکری اخراجات تنظیم کے زوال کا باعث بن سکتے...

نیٹو کی بڑھتی عسکری اخراجات تنظیم کے زوال کا باعث بن سکتے ہیں: روسی وزیر خارجہ
ن

مانیٹرنگ ڈیسک(مشرق نامہ) – روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ شمالی اتحاد (نیٹو) کی جانب سے عسکری اخراجات میں اضافے کا فیصلہ خود اس فوجی اتحاد کے زوال کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب نیٹو کے رہنما دو روزہ سربراہی اجلاس کے لیے دی ہیگ (ہالینڈ) میں جمع ہوئے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر بدھ کے روز یہ فیصلہ کیا گیا کہ رکن ممالک اپنی دفاعی اخراجات کو مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے 5 فیصد تک بڑھائیں گے۔

مغربی ممالک نے دعویٰ کیا کہ عسکری اخراجات میں یہ اضافہ روس کی جانب سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

تاہم لاوروف نے پیر کے روز کہا کہ ماسکو اپنے دفاعی اخراجات میں کمی لانے کا ارادہ رکھتا ہے، اور اُن کے بقول نیٹو ممالک کا مشترکہ فیصلہ درحقیقت اس اتحاد کو نقصان پہنچائے گا اور بالآخر اس کے انہدام پر منتج ہوگا۔

پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ روس کا عسکری پھیلاؤ اس کے زوال کا سبب بنے گا، لاوروف نے طنزیہ انداز میں کہا:
"اگر وہ واقعی اتنے دانشمند ہیں، تو شاید وہ یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ نیٹو ممالک کے تباہ کن حد تک بڑھتے ہوئے اخراجات اسی تنظیم کو لے ڈوبیں گے۔”

لاوروف نے مزید کہا کہ روس، جیسا کہ صدر [ولادیمیر پیوٹن] نے حالیہ دنوں منسک میں اعلیٰ یوریشین اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا، آئندہ برسوں میں اپنے فوجی اخراجات میں کمی لانے کا منصوبہ رکھتا ہے، اور وہ خیالی خطرات کے بجائے عقلِ سلیم کی بنیاد پر فیصلے کرے گا—برعکس نیٹو کے جو فرضی خطرات کو بنیاد بنا کر پالیسیاں تشکیل دے رہا ہے، بشمول سیکورسکی۔

روسی صدر نے جمعہ کے روز اشارہ دیا تھا کہ ماسکو آئندہ سال سے دفاعی بجٹ میں کمی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

روس نے مغربی ممالک کے اس دعوے کو بھی قطعی بے بنیاد قرار دیا ہے کہ ماسکو نیٹو کے رکن کسی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے—ایسا کوئی بھی اقدام، جس پر روس اور امریکہ دونوں کا اتفاق ہے، تیسری عالمی جنگ کو بھڑکا سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین