تہران ( مشرق نامہ) – اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ایک سینئر مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی حکام کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پر حملہ کرنے اور بعد ازاں رہبرِ انقلاب کو بھی نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا، تاہم یہ سازش کامیابی سے ناکام بنا دی گئی۔
اتوار کے روز ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں سابق پارلیمانی اسپیکر علی لاریجانی نے کہا کہ اس جنگ میں دشمن کا منصوبہ یہ تھا کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) کے کمانڈروں اور قومی سطح کے اہم مراکز کو بیک وقت نشانہ بنایا جائے۔ اُن کا خیال تھا کہ اس طرح وہ کچھ اعلیٰ حکام کو دھمکیوں کے ذریعے نظام سے الگ ہونے پر مجبور کر سکیں گے۔
لاریجانی، جنہوں نے 2008 سے 2020 تک ایرانی پارلیمان کے اسپیکر کے طور پر خدمات انجام دیں، نے مزید انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایرانی سیاستدانوں، فوجی افسران اور سکیورٹی اہلکاروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کی۔
انہوں نے بتایا کہ جمعے کے روز مجھ سے رابطہ کیا گیا اور 12 گھنٹوں کے اندر اندر ایران یا کم از کم تہران چھوڑنے کو کہا گیا، بصورتِ دیگر مجھے بھی شہیدوں جیسا انجام دیکھنے کو کہا گیا—جیسے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد حسین باقری اور سپہ سالار میجر جنرل غلام علی رشید۔ لیکن میں نے انہیں وہ جواب دیا جو وہ سننے کے لائق تھے۔
لاریجانی نے امریکہ کی جانب سے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات—فردو، نطنز اور اصفہان—پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صرف اپنی خفت مٹانے کے لیے کیا گیا:
"انہیں اس پر خوشی منا لینے دیں۔”
امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے لاریجانی نے کہا کہ
ایران نے 14 میزائل داغے، جن میں سے 6 قطری اڈے پر جا لگے—ہر ایک میزائل میں 400 کلوگرام وارہیڈ تھا اور انہوں نے ہدف کو زوردار ضرب لگائی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے یہ دعویٰ کیا کہ "صرف ایک میزائل لگا تھا”، اور طنزیہ انداز میں کہا: "انہیں اپنے وہم میں خوش رہنے دیں۔”
تخمینوں کے مطابق، ایرانی میزائل حملوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے درمیانی مدت میں اسرائیل میں رہائشی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
تل ابیب کے شمالی علاقے میں واقع رئیل اسٹیٹ دفاتر کے مطابق، وہاں دستیاب اپارٹمنٹس کی تعداد ناکافی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کے متبادل رہائش کے امکانات غیر یقینی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکومت نے 13 جون کو امریکہ کی پشت پناہی سے ایران پر بلا اشتعال جارحیت کا آغاز کیا، جس میں ایرانی افواج کے کئی اعلیٰ سطحی کمانڈروں، سائنسدانوں اور متعدد عام شہریوں بشمول خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا۔
اسی روز ایرانی مسلح افواج، بالخصوص سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کیا، جسے "آپریشن وعدہ صادق 3” (Operation True Promise III) کا نام دیا گیا۔
ایرانی افواج نے جدید نسل کے کئی میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی فوجی اور صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جو انتہائی درستگی سے اپنے اہداف پر جا لگے۔ اس بھرپور حملے کے بعد اسرائیلی حکومت کو 24 جون کو یکطرفہ طور پر جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔
اس کے بعد ایران نے بھی 22 مرحلوں پر مشتمل کامیاب حملوں کے بعد اپنی جوابی کارروائی روک دی۔
ایرانی حملوں کے نتیجے میں اسرائیلی وزارتِ صحت نے 29 ہلاکتوں اور 3,238 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ اسرائیل ماضی میں جانی نقصانات کے اعداد و شمار چھپاتا رہا ہے۔

