بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی میزائل حملے کے بعد بات یام 'غزہ کی مانند کھنڈر' بن...

ایرانی میزائل حملے کے بعد بات یام ‘غزہ کی مانند کھنڈر’ بن گیا
ا

مقبوضہ فلسطین ( مشرق نامہ)– ایرانی جوابی حملوں کے بعد صیہونی قبضے کے زیرِ انتظام شہر بات یام کی حالت ایسی ہو چکی ہے جیسے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے بعد کے مناظر، یہ اعتراف خود اسرائیلی عبرانی ذرائع ابلاغ میں سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی اقتصادی روزنامے کالکالِسٹ (Calcalist) نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں سے تباہ ہونے والے گھروں سے تقریباً 18 ہزار افراد کو نکالا گیا، جن میں سے 12 ہزار افراد ہوٹلوں میں منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ باقی کو کرایہ کے اپارٹمنٹس میں عارضی طور پر بسایا گیا ہے۔

تجزیاتی رپورٹس کے مطابق چار شہر—بات یام، تل ابیب، ریخووت، اور رامات گان—ایران کے میزائل حملوں سے شدید متاثر ہوئے، اور اب ان علاقوں میں بےدخل آبادکاروں کے لیے رہائش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

"شہر کی تاریخ کا سب سے تباہ کن دن”

بات یام کے میئر تسفیکا بروت نے اسرائیلی چینل 10 کو انٹرویو میں بتایا کہ ایرانی حملوں نے شہر کو "تاریخ کا سب سے شدید زخم” دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 120 دونم (تقریباً 40 ایکڑ) پر پھیلا ہوا رہائشی علاقہ مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔

میئر کے مطابق:

"ایرانی میزائل بمباری نے محض ایک دن میں ایسا تباہ کن نقش چھوڑا ہے جو بات یام ہی نہیں بلکہ پورے مقبوضہ خطے کی تاریخ کا بدترین حملہ بن چکا ہے۔”

رہائش کا بحران اور جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ

رئیل اسٹیٹ دفاتر کے مطابق، شمالی تل ابیب میں دستیاب اپارٹمنٹس کی قلت کے باعث بےگھر افراد کی منتقلی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تباہی کے اثرات سے رہائشی قیمتوں میں درمیانی مدت کے لیے اضافہ متوقع ہے۔

پسِ منظر: یکطرفہ جارحیت اور ایرانی جوابی کارروائی

13 جون کو اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے بلااشتعال جارحیت کا آغاز کیا، جس میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں، جوہری سائنسدانوں، اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

اسی دن، ایرانی مسلح افواج، خاص طور پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) نے "آپریشن سچا وعدہ III” کے تحت تاریخی جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔

جدید نسل کے میزائلوں سے ایران نے اسرائیل کے کئی عسکری اور صنعتی اہداف کو نشانہ بنایا۔ 24 جون کو اسرائیلی حکومت کو یکطرفہ طور پر اپنی جارحیت ختم کرنا پڑی، جس کے بعد ایران نے بھی 22 کامیاب حملوں کے بعد اپنے آپریشن کو روک دیا۔

اسرائیلی وزارت صحت نے 29 افراد کے ہلاک اور 3,238 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل کی تاریخ میں اعداد و شمار پر سینسر عام ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین