تہران ( مشرق نامہ) – ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک میں اسرائیلی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی نئی جارحیت کی پیش بندی کی جا سکے۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایران نے متعلقہ ممالک کو ان اطلاعات، انٹیلی جنس رپورٹس اور قیاس آرائیوں سے آگاہ کر دیا ہے جن کے مطابق صیہونی ریاست ہمسایہ سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"بغیر کسی استثنا کے، تمام ہمسایہ ممالک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ صیہونی حکومت کو اپنے فضائی یا زمینی حدود کو ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔”
بقائی کے مطابق، ہمسایہ ممالک اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، چاہے وہ حسنِ ہمسائیگی کے اصول ہوں یا بین الاقوامی قانون کے تقاضے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی قانون کے مطابق کوئی ملک کسی تیسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے اپنی سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ ممالک نے نہ صرف ان قیاس آرائیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے بلکہ تہران کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی مسلح افواج اور سلامتی ادارے ان رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ وزارت خارجہ بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی جنگی جارحیت
ایران کے مطابق 13 جون کو اسرائیل نے بلا اشتعال جنگ کا آغاز کیا، جس میں اس نے اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا اور ایران کے جوہری، عسکری و رہائشی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس کے ردعمل میں ایرانی مسلح افواج نے "آپریشن سچا وعدہ III” کے تحت قابض اسرائیلی علاقوں میں کئی اہم اہداف پر میزائل حملے کیے۔
22 جون کو امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہو گیا اور اس نے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی، جو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ) کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
آئی اے ای اے کی رپورٹ: ایک خطرناک بہانہ
بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی حالیہ "نامناسب” رپورٹ نے امریکہ اور اسرائیل کو ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا بہانہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا:
"امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو سیاسی زاویے سے دیکھ رہے ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔”
ایرانی ترجمان کے مطابق، ایجنسی کی غلطیوں کے باعث ایران کے ساتھ معمول کے دو طرفہ تعاون کا تسلسل غیر منطقی بن چکا ہے۔
جرمن چانسلر کا بیان: تاریخی شرمندگی
بقائی نے جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو "گندا کام” (Dirty Work) کہہ کر جائز قرار دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا:
"یہ بیان برلن کے لیے ایک تاریخی اور دائمی شرمندگی بنے گا۔”
فرانس اور جرمنی کے اسرائیلی جارحیت پر موقف کو بھی انہوں نے ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ پیرس کو جنگ میں اپنی شراکت پر جوابدہ ہونا چاہیے۔
ٹرمپ کے توہین آمیز الفاظ کی مذمت
بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف "توہین آمیز اور اشتعال انگیز” ریمارکس کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات نے لاکھوں ایرانیوں اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
"ایسے بیانات صرف خطے اور امتِ مسلمہ کے حوالے سے امریکی پالیسیوں کے خلاف نفرت میں اضافہ کریں گے۔”
ہر شہادت، ہر تباہی: اسرائیلی جنگی جرائم کی مثال
ایرانی ترجمان کے مطابق، 12 روزہ اسرائیلی جارحیت کے دوران کیے گئے تمام حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں:
"ہر شہادت، ہر تباہ شدہ عمارت ایک جنگی جرم ہے، کیونکہ یہ سب کارروائیاں بلاجواز اور بلاعذر کی گئی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت دراصل ایران کی سالمیت، شناخت اور ہر ایرانی فرد کے خلاف ایک جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری قوم نے یکجہتی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور آئندہ بھی کسی نئی مہم جوئی کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔

