پاکستان(مشرق نامہ) 2025 کی دوسری سہ ماہی کے دوران تشدد کے واقعات میں نمایاں طور پر 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جیسا کہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر ہلاکتوں میں کمی، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملیوں میں بہتری، اور پرامن سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی شورش کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اپریل سے جون کے دوران تشدد کے واقعات سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد کم ہو کر 615 رہ گئی، جو کہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 900 تھی۔ اس عرصے میں 273 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں شامل تھیں، جبکہ مجموعی طور پر 388 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان بدستور سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رہے، تاہم ان دونوں صوبوں میں واقعات کی تعداد اور ہلاکتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ خیبر پختونخوا میں ہلاکتیں 32 فیصد کم ہو کر 567 سے 389 تک آ گئیں، جو کہ ریاستی کارروائیوں اور دہشت گرد تنظیموں خصوصاً تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشنز کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان میں ہلاکتیں 317 سے کم ہو کر 190 ہو گئیں، یعنی 40 فیصد کمی، لیکن صوبہ بدستور بدامنی، علیحدگی پسند تحریکوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کا مرکز ہے۔ اس کے باوجود، ان دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر ملک بھر کے 94 فیصد ہلاکتیں اور 93 فیصد پرتشدد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ تشدد کا دائرہ کار اُن علاقوں تک بھی پھیل رہا ہے جو پہلے نسبتاً پُرامن تھے۔ پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد پہلی سہ ماہی میں 8 سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 21 ہو گئی، یعنی 162 فیصد اضافہ۔ آزاد جموں و کشمیر میں جہاں پہلے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی، اب چھ افراد جان کی بازی ہار گئے، جو کہ ایک نئے اور خطرناک رجحان کا پتہ دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکتیں دیگر طبقات کے مقابلے میں زیادہ تھیں، تاہم سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوئے۔ 107 دہشت گرد حملوں میں اکثریتی نشانہ شہری بنے، اور زخمیوں میں 249 عام افراد جبکہ 120 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گرد اب مخصوص عسکری اہداف کے بجائے شہری زندگی میں خلل ڈالنے اور خوف پھیلانے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔
رپورٹ کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پہلے سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ہلاک ہونے والوں میں سے 55 فیصد مجرم یا عسکریت پسند تھے، جو کہ 2021 سے 2024 کے درمیانی عرصے میں صرف 35 فیصد ہوا کرتے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی کارروائیاں اب زیادہ ہدفی اور نتیجہ خیز ہوتی جا رہی ہیں، جس سے مستقبل میں ملک بھر میں امن و استحکام کی امید کی جا سکتی ہے۔

