نیویارک (مشرق نامہ) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک سوشلسٹ رہنما زہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوئے اور انہوں نے ’’درست رویہ‘‘ اختیار نہ کیا، تو وفاقی حکومت نیویارک کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی فنڈنگ روک سکتی ہے۔
اتوار کو فاکس نیوز کی میزبان ماریا بارٹی رومو سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ممدانی کو ’’خالص کمیونسٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ جیت گئے تو میں صدر ہوں گا، اور انہیں ٹھیک کام کرنا ہوگا، ورنہ نیویارک کو ایک پائی بھی نہیں ملے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق نیویارک سٹی کو ہر سال 100 ارب ڈالر سے زائد کی وفاقی فنڈنگ مختلف پروگراموں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
ممدانی کا ردعمل: صدر ذاتی حملوں سے اصل مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں
ممدانی نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے NBC کے پروگرام "میٹ دی پریس” میں واضح کیا کہ وہ کمیونسٹ نہیں ہیں۔
’’نہیں، میں کمیونسٹ نہیں ہوں۔ یہ الزامات میری مہم کے اصل ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وہ اس طرزِ عمل کے عادی ہو چکے ہیں جس میں صدر ان کی شکل، آواز اور نسلی شناخت پر بات کرتے ہیں تاکہ ان کے پیغام کو دھندلا کیا جا سکے۔
اپنی ٹیکس پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ وہ نیویارک کے دولت مند طبقے پر ٹیکس بڑھانے کے حامی ہیں:
’’میرا ماننا ہے کہ ہمیں ارب پتی افراد نہیں رکھنے چاہئیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی کا مقصد نیویارک کے مضافاتی علاقوں میں ٹیکس کا بوجھ کم کرکے اسے امیر اور اکثریتی سفید فام علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے۔
مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا حوالہ دیتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ،
’’چاہے آپ اسے جمہوریت کہیں یا ڈیموکریٹک سوشلسزم، اس ملک کے ہر بچے کے لیے دولت کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے۔‘‘
پارٹی کے اندر اختلافات، مگر ممدانی پُراعتماد
اگرچہ ممدانی کو کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی حمایت حاصل ہے، تاہم گورنر کیتھی ہوچل سمیت کئی مرکزی ڈیموکریٹس نے ان سے فاصلہ رکھا ہے۔
گورنر ہوچل نے بیان دیا:
’’ہماری پالیسیوں میں فرق ضرور ہے، لیکن مکالمہ جاری رہنا چاہیے۔‘‘
اس کے جواب میں ممدانی نے کہا کہ ان کی تجاویز زمینی حقائق پر مبنی ہیں اور وہ ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ڈیموکریٹک پرائمری کے دوران، جو 24 جون کو منعقد ہوئی، ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جس سے پارٹی کے داخلی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ اگر ہم محنت کش عوام کو مرکز میں رکھیں، تو پارٹی کی اصل اقدار کی طرف واپسی ممکن ہے — اور یہی راستہ واشنگٹن کی آمریت کا توڑ ہے۔
اسرائیل پر مؤقف، معاشی ایجنڈا اور وال اسٹریٹ کی تشویش
ممدانی اسرائیلی قبضے کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اس امکان کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’’شدید بائیں بازو کا پاگل‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’وہ کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘
پرائمری میں ان کی غیر متوقع جیت نے نیویارک کی سیاسی اور مالی اشرافیہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ممدانی نہ صرف امیر طبقے اور کارپوریشنز پر ٹیکس عائد کرنے کی بات کر رہے ہیں، بلکہ وہ عوامی فلاحی منصوبوں کی مکمل تشکیلِ نو کا ارادہ بھی رکھتے ہیں — جن میں مفت عوامی ٹرانسپورٹ، عالمی سطح کی چائلڈ کیئر سبسڈی، اور کرایوں پر حکومتی کنٹرول شامل ہیں۔
ان کی کامیابی کے بعد ریئل اسٹیٹ اسٹاکس میں گراوٹ دیکھی گئی، کئی ارب پتی سرمایہ کار قانونی مشاورت میں مصروف ہو گئے، اور وال اسٹریٹ نے متبادل منصوبوں پر غور شروع کر دیا۔
دوسری جانب، موجودہ میئر ایرک ایڈمز کو اسکینڈلز اور بڑے سرمایہ داروں کی حمایت سے محرومی کے باعث غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

