بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کی ثالثی سے نیتن یاہو–الشراء ملاقات کا امکان

ٹرمپ کی ثالثی سے نیتن یاہو–الشراء ملاقات کا امکان
ٹ

واشنگٹن ( مشرق نامہ)– امریکی ربی کا کہنا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور شام کے عبوری صدر احمد الشراء کے درمیان براہِ راست مذاکرات ممکن ہو سکتے ہیں، جو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم موڑ ثابت ہوں گے۔

ربی ابراہام کوپر، جو امریکی یہودی رہنما اور شمعون ویزنٹل سینٹر سے وابستہ ہیں، نے حالیہ دورہ دمشق کے دوران صدر الشراء سے ملاقات کی۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے "کان” سے گفتگو کرتے ہوئے کوپر نے کہا کہ اگر ٹرمپ دونوں رہنماؤں کو واشنگٹن بلا کر چند گھنٹے بات چیت پر آمادہ کر لیں، تو "تصویر یکسر بدل سکتی ہے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ شام کی بحالی میں ٹرمپ کا وعدہ اور مستقل کردار کسی بھی پیش رفت کے لیے لازمی ہوگا۔ ان کے بقول، "اگر ایسا نہ ہوا تو عمل سست اور بتدریج ہوگا”۔

کوپر نے الشراء کو "اسلام پسند” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قومی یکجہتی، ایک متحدہ فوج، اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے وژن کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق، "اگر وہ یہ سب کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو کھیل کے اصول ہی بدل جائیں گے”۔

اسرائیل-شام روابط میں پانی، زراعت، اور ورثے کی تجاویز

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ربی کوپر کے دورۂ دمشق میں شام اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ تعاون کے کئی شعبہ جات پر تبادلہ خیال ہوا، جن میں آبی نظم و نسق، زراعت، اور لاپتہ افراد کی تلاش شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق، کوپر نے 1965 میں شام میں گرفتار اور سزائے موت پانے والے بدنام موساد ایجنٹ ایلی کوہن کے انٹیلیجنس آرکائیو کی جزوی بازیابی پر شامی حکومت کا شکریہ ادا کیا، اور ان کی باقیات کی واپسی کے لیے بھی مدد طلب کی، تاکہ انہیں مقبوضہ علاقوں میں دفنایا جا سکے۔

مزید یہ کہ، ربی کوپر کے مطابق، صدر الشراء نے شام میں یہودی عبادت گاہوں اور ثقافتی ورثے کی بحالی میں دلچسپی ظاہر کی، اور ممکنہ یہودی زیارتوں کی راہ ہموار کرنے کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا۔

قابض "اسرائیل” کے حملوں کے سائے میں معمول کی بات چیت؟

یہ تمام سفارتی اشارے اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب "اسرائیل” نہ صرف شام کے مقبوضہ جولان پر قابض ہے، بلکہ جنوبی شام میں فوجی توسیع اور وقفے وقفے سے فضائی حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں دمشق کی جانب سے "سفارتی حقیقت پسندی” کو بعض مبصرین موقع پرستی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین