مقبوضہ فلسطین ( مشرق نامہ)– ایران کے خلاف حالیہ جنگ کے نتیجے میں "اسرائیل” کو نہ صرف بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے، نفسیاتی نظام، اور میڈیا پر بھی شدید دباؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ مالیاتی اخبار کالکالیست کے مطابق، اب تک 41,550 سے زائد نقصانات کے دعوے درج ہو چکے ہیں جبکہ 18,000 سے زائد افراد کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق، 32,975 دعوے رہائشی عمارتوں اور ڈھانچوں سے متعلق ہیں، 4,456 گھریلو اشیاء اور 4,119 گاڑیوں کے نقصان سے متعلق دعوے دائر کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق، جنگ سے ہونے والے براہ راست مالی نقصانات 5 ارب شیکل (تقریباً 1.3 ارب ڈالر) سے تجاوز کر چکے ہیں، جب کہ ہزاروں کیسز اب بھی جانچ کے مراحل میں ہیں۔
ایرانی میزائل حملوں کی درستگی اور سینسرشپ
اسرائیلی میڈیا، خصوصاً چینل 13 نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی میزائل حملوں نے فوجی اڈوں، اسٹریٹیجک تنصیبات اور وائزمین انسٹیٹیوٹ جیسے مراکز کو براہ راست نشانہ بنایا۔ حملوں کی درستگی نے صہیونی دفاعی حکمت عملی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، تاہم مکمل تفصیلات صہیونی سینسرشپ کی نذر ہو رہی ہیں۔
"اسرائیل” نے خود تصدیق کی ہے کہ 12 روزہ جنگ کے دوران 50 سے زائد میزائل اس کی سرزمین پر گرے، لیکن پریس سینسرشپ کے باعث جنگی نقصان کی اصل شدت کبھی سامنے نہیں آ سکے گی۔ ان پابندیوں کی آڑ میں ملکی میڈیا اور غیر ملکی نشریاتی اداروں کی کوریج کو روکا گیا، جب کہ حیفہ میں ایرانی میزائلوں کے حملے کی رپورٹنگ پر اسرائیلی پولیس نے براہ راست مداخلت کی۔
داخلی دباؤ اور تنقید
جنگ کے بعد اسرائیلی حکومت کو داخلی سطح پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ تیاریوں میں ناکامی، ہنگامی ردعمل میں سستی، اور بنیادی انفراسٹرکچر کی کمزوری جیسے پہلو صہیونی عوامی و سیاسی حلقوں میں سوالات کی زد میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ اعداد و شمار "اسرائیل” کے لیے نہ صرف ایک اقتصادی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اس کے اسٹریٹیجک کمزوریوں کو بھی بےنقاب کرتے ہیں۔

