بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی حملوں میں "اسرائیل" کے 3,345 زخمی، ہزاروں نقصانات کے دعوے

ایرانی حملوں میں "اسرائیل” کے 3,345 زخمی، ہزاروں نقصانات کے دعوے
ا

مقبوضہ فلسطین ( مشرق نامہ) – ایرانی جوابی حملوں کے بعد "اسرائیل” میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان، نفسیاتی دباؤ، اور ہزاروں افراد کی نقل مکانی سامنے آئی ہے، جب کہ صہیونی ذرائع ابلاغ نے ایرانی میزائلوں کی غیرمعمولی درستگی کا اعتراف کر لیا ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق، ایران کے خلاف حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی جوابی کارروائی میں 3,345 افراد زخمی ہوئے، جن میں 23 شدید زخمی ہیں اور تین افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکے ہیں۔ اسرائیلی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، جنگ کے دوران نفسیاتی مسائل میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا، اور نئے و سابقہ مریض بڑی تعداد میں ذہنی دباؤ سے متعلق علاج کے لیے ہسپتالوں میں رجوع کرتے رہے۔

اس کے علاوہ، رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے باعث 11,070 صہیونیوں کو 97 ریسیپشن مراکز میں منتقل کیا گیا، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی عارضی قیام گاہوں جیسے ہوٹلوں میں مقیم ہیں، اور ان کی واپسی کی کوئی تاریخ واضح نہیں۔

41 ہزار سے زائد نقصانات کے دعوے، نقصانات کا تخمینہ 5 ارب شیکل

اسرائیلی مالیاتی اخبار کالکالیست کے مطابق، اب تک 41,550 نقصانات کے دعوے دائر ہو چکے ہیں، جن میں سے 32,975 دعوے رہائشی عمارتوں و دیگر ڈھانچوں پر براہِ راست حملوں کے ہیں، 4,456 گھریلو آلات کے نقصان سے متعلق ہیں، جبکہ 4,119 گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات پر مشتمل ہیں۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق، نقصانات کا مجموعی تخمینہ 5 ارب شیکل (تقریباً 1.3 ارب ڈالر) سے تجاوز کر چکا ہے، تاہم ہزاروں دعوے تاحال جائزہ مراحل میں ہیں یا باضابطہ دائر نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ تقریباً 18,000 افراد کو علاقے سے نکالا گیا جن کے مکانات اور علاقوں کو ایرانی حملوں سے شدید نقصان پہنچا۔ حکومت اور بیمہ ادارے نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں، اور توقع ہے کہ مزید دعوے آئندہ دنوں میں جمع کروائے جائیں گے۔

اسرائیلی میڈیا کا ایرانی میزائلوں کی درستگی کا اعتراف

اسرائیلی چینل 13 نے اتوار کے روز اعتراف کیا کہ ایرانی میزائل حملے "اسرائیل” کے متعدد فوجی اڈوں اور اسٹریٹیجک تنصیبات پر براہِ راست لگے، جن میں وائزمین انسٹیٹیوٹ جیسے اہم تحقیقی ادارے بھی شامل ہیں۔ چینل کے مطابق، ایران کے میزائل حملوں نے جس درستگی سے اہداف کو نشانہ بنایا، اس کا مکمل ادراک ممکن نہیں۔

صہیونی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے 50 سے زائد میزائل فائر کیے گئے، تاہم پریس سینسرشپ کے باعث مکمل نقصان کی تفصیلات کبھی منظرِ عام پر نہیں آ سکیں گی۔

"اسرائیل” میں "قومی سلامتی” کے نام پر کسی بھی خبر یا تصویری مواد کی اشاعت پر قدغن لگائی جا سکتی ہے، اور یہی پابندیاں اس وقت نقصان کی اصل نوعیت کو چھپانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

یہ اعداد و شمار نہ صرف جنگ کے داخلی اثرات کو اجاگر کرتے ہیں، بلکہ اسرائیلی عوام کے اندر اس جنگی حکمتِ عملی، تیاریوں کی ناکامی، اور انفراسٹرکچر کی کمزوری پر شدید تنقید کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین