تحقیقات میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان خفیہ ڈیجیٹل اتحاد کا پردہ چاک، ایرانی سائنسدان اور دفاعی نظام ہدف
تہران (مشرق نامہ) – ایران میں جاری ایک اعلیٰ سطحی تفتیش کے دوران بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں اور اسرائیلی انٹیلیجنس کے مابین ایک خفیہ ڈیجیٹل نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے ذریعے ایرانی سائنسدانوں، اہم تنصیبات اور حساس قومی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی۔
آسٹریلوی صحافی اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر مشہور لائیو شو کے میزبان ماریو نوفل کے مطابق، ایرانی حکام اس وقت ان بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں جو حساس ڈیٹا کے افشاء، تنصیبات کی نگرانی اور فوجی نظام کی سائبر مداخلت میں ملوث رہی ہیں۔
نوفل کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد میں واضح ہوا ہے کہ بھارتی کوڈرز نے نہ صرف ایران کے شہری و دفاعی ڈیٹا کو چوری کیا، بلکہ کچھ صورتوں میں فوجی نظام کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چالاکی سے ہائی جیک بھی کیا۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی انٹیلیجنس کو ایران کے شہری رجسٹریشن، پاسپورٹ ڈیٹا، ہوائی اڈوں کے سیکیورٹی پروٹوکول اور حتیٰ کہ جوہری سائنسدانوں کی تفصیلات تک مکمل رسائی حاصل ہوئی۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ بھارتی سافٹ ویئر انجینئرز اسرائیلی حکام سے خفیہ طور پر منسلک رہے، اور یہ رابطے اسٹارلنک جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے قائم کیے گئے۔ اس تعاون کے نتیجے میں اسرائیل نے ایران کے کئی اہم قومی اداروں پر سایہ فگن نگرانی قائم کرلی، جس سے نہ صرف قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے بلکہ ایران کی دفاعی خودمختاری بھی چیلنج ہوئی۔
حکام کے مطابق، ایرانی حکومت اس وقت تحقیقات کے حتمی مراحل میں ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں باقاعدہ مؤقف اور ممکنہ جوابی اقدامات کا اعلان کرے گی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کو فوری طور پر اپنے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو جانچ، غیر ملکی سافٹ ویئر پر انحصار ختم کرنے اور مقامی متبادل نظاموں کی ترقی کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔
ذرائع نے بھارت کو "صہیونی ایجنڈے کا پراکسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پورے خطے میں ڈیجیٹل تسلط قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ماہرین نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارتی ڈیجیٹل کمپنیوں کے ذریعے پھیلائی جانے والی "ڈیجیٹل دہشتگردی” اب محض سائبر حملوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ریاستی جاسوسی اور علاقائی عدم استحکام کا ایک خطرناک ذریعہ بن چکی ہے۔

