لاہور(مشرق نامہ)مقامی مارکیٹوں میں اس ہفتے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا شکار عوام پر مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔ مارکیٹ سروے کے مطابق سرکاری نرخوں اور حقیقی ریٹیل قیمتوں میں واضح فرق سامنے آیا، اور دکاندار سرکاری ریٹ لسٹ سے کہیں زیادہ قیمتیں وصول کرتے رہے۔
زندہ مرغی کی قیمت میں 45 روپے فی کلو کا اضافہ دیکھا گیا، اور اگرچہ اس کی سرکاری قیمت 289 سے 303 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن مارکیٹ میں یہی مرغی 420 روپے فی کلو تک فروخت ہوتی رہی۔ مرغی کا گوشت، جس کی سرکاری قیمت 439 روپے فی کلو مقرر ہے، اصل میں 500 سے 580 روپے فی کلو میں دستیاب رہا، جبکہ بغیر ہڈی والا گوشت بعض مارکیٹوں میں 1,000 سے 1,100 روپے فی کلو تک جا پہنچا۔
سبزیوں کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھیں۔ اے گریڈ نرم چھلکے والے آلو کی سرکاری قیمت 70 سے 75 روپے فی کلو تھی، لیکن مارکیٹ میں یہ 140 سے 150 روپے فی کلو میں فروخت ہوئے۔ پیاز کی سرکاری قیمت 40 سے 45 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، جبکہ دکانداروں نے اسے 80 روپے فی کلو میں بیچا۔
موسمی پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ سیب مختلف گریڈز میں سرکاری طور پر 295 سے 440 روپے فی کلو مقرر تھے، لیکن مارکیٹ میں ان کی قیمت 350 سے 800 روپے فی کلو تک جا پہنچی۔
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پرائس کنٹرول میکنزم کمزور ہو چکا ہے، اور دکاندار بلا خوف و خطر اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو عوام کی قوتِ خرید مزید متاثر ہو گی، اور روزمرہ کی اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔

