تہران (مشرق نامہ): ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے اسرائیل اور امریکہ کی بلاجواز جارحیت کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے IRNA کے مطابق، یہ بات انہوں نے اتوار کے روز پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔
اس بات چیت کے دوران میجر جنرل موسوی نے 12 روزہ جنگ کے بعد کی دفاعی سفارت کاری پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا:اس مسلط کردہ 12 روزہ جنگ میں امریکہ نے ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی بھرپور مدد کی، نہ صرف جارحیت میں شریک رہا بلکہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے اسرائیل کو بچانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں جھونک دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ کئی مغربی ممالک نے بھی اسرائیل کی زبانی اور عملی حمایت کی۔
ایرانی سپہ سالار نے کہا:
"اگرچہ ہمیں قیمتی جانی نقصان اٹھانا پڑا، جن میں جنگ کے آغاز پر عظیم اور باصلاحیت کمانڈرز کی شہادت شامل ہے، ہم نے دشمن کے عزائم کو اس حد تک ناکام بنایا کہ بالآخر انہیں جنگ بندی کی درخواست کرنا پڑی۔”
یاد رہے کہ اسرائیل نے 13 جون کو ایران کے خلاف حملے شروع کیے، جبکہ 16 جون کو ایران اور امریکہ کے درمیان تہران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات ہونا طے تھے۔ امریکہ نے 22 جون کو جنگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرتے ہوئے فردو، اصفہان، اور نطنز میں ایران کی تین نیوکلیئر تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔
ایرانی مسلح افواج نے جوابی کارروائی میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اہم اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے نمایاں نقصان پہنچا۔ اس کے بعد 24 جون کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
یہ گفتگو ایران اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے فوجی و سفارتی تعلقات کی غمازی کرتی ہے، اور خطے میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں باہمی حمایت اور اتحاد کو نمایاں کرتی ہے۔

