( مشرق نامہ) فرانسیسی جزیرے کورسیقا کی علاقائی اسمبلی نے جمعہ کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے اور غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور نسل کشی قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی۔
یہ قرارداد اسمبلی کی صدر میری-انتوانیٹ موپرتیوس کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ قرارداد میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤقف اپنایا گیا۔
قرارداد کی منظوری کے بعد اسمبلی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “کورسیقا اسمبلی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتی ہے، فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی جانب سے کیے گئے نسل کش اقدامات کی مذمت کرتی ہے، اور کورسیقا و سارڈینیا کی فوجی تنصیبات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرتی ہے۔”
قرارداد میں کہا گیا کہ کورسیقا اسمبلی اقوام متحدہ کی سابقہ قراردادوں کی روشنی میں فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کرتی ہے۔ ساتھ ہی، اگرچہ اسرائیل کے امن اور سلامتی سے ہم آہنگ وجود کو تسلیم کیا گیا ہے، قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اسرائیلی حکومت کے مسلسل اقدامات بین الاقوامی جرائم کے مترادف ہیں، جن میں نسل کشی جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔
قرارداد میں دو خودمختار ریاستوں پر مبنی سیاسی حل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقوں کے سیاسی، اجتماعی اور مذہبی مفادات کے احترام کی اپیل کی گئی۔
کورسیقا کی اسمبلی نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی دیرینہ یکجہتی کا اعادہ کیا، جنہیں عشروں سے قبضے، امتیازی سلوک اور منظم تشدد کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی فرانسیسی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے۔
قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ فرانس اسرائیل کو ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی فوراً بند کرے، جب تک کہ اسرائیلی حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینیوں پر حملے جاری رکھتی ہے۔

