بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی جارحیت: مغربی کنارے میں ہزار سے زائد مکانات مسمار

اسرائیلی جارحیت: مغربی کنارے میں ہزار سے زائد مکانات مسمار
ا

اسرائیلی قابض افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی عسکری کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی مکانات مسمار کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جنین، طولکرم اور نور شمس کیمپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں گھروں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسلسل چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری

القدس العربی کے مطابق، قابض افواج نے بیت لحم شہر میں کئی علاقوں پر دھاوا بولا، گھروں کی تلاشی لی اور تین فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان میں عید عبد الناصر عبد الرحیم صلحاب، عصام عطا خلف الشاعر اور ابراہیم ناصر وردیان شامل ہیں۔ جنین میں ایک فلسطینی شہری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے اندرونی چوٹیں آئیں۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق، 43 سالہ شخص کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

نابلس کے مشرق میں واقع بلاطہ اور عسكر پناہ گزین کیمپوں پر بھی قابض فوج نے بلڈوزروں کے ساتھ حملہ کیا۔ بلاطہ میں فوجی گاڑیوں نے تباہی مچائی، جب کہ عسكر پر چھاپے کے بعد شدید جھڑپیں ہوئیں۔

بوڑھے شہریوں پر تشدد

جنوبی مغربی کنارے کے علاقے مسافر یطا میں قابض افواج نے ایک بزرگ فلسطینی کو زدوکوب کیا، جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ شہر یطا، حلحول اور رام اللہ کے شمال میں واقع بیرزیت ٹاؤن میں بھی چھاپے مارے گئے۔

جنوری سے اب تک 1000 سے زائد گھروں کی مسماری، 55 سے زائد شہادتیں

انادولو ایجنسی کے مطابق، فلسطینی میڈیا کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ جنوری سے جاری کارروائیوں میں 1000 سے زائد مکانات تباہ کیے گئے ہیں، جب کہ کم از کم 55 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا مرکز شمالی مغربی کنارے کے جنین، طولکرم اور نور شمس کے پناہ گزین کیمپ ہیں، جہاں 21 جنوری کے بعد سے حملوں میں شدت آئی ہے۔

جنین کیمپ: 600 سے زائد مکانات تباہ، ہزاروں بے گھر

جنین کیمپ میں 600 سے زائد مکانات مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں، جب کہ کئی رہائش کے قابل نہیں رہے۔ کمیٹی کے مطابق، کیمپ میں 159 دن سے مسلسل فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جن میں گھروں کو جلانا اور سڑکیں تباہ کرنا شامل ہے۔ اب تک 42 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی یا گرفتار، اور تقریباً 22,000 افراد جبری طور پر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

طولکرم و نور شمس: 25 ہزار سے زائد افراد فرار، انسانی المیہ

طولکرم میڈیا کمیٹی کے مطابق، طولکرم اور نور شمس کیمپ میں 400 مکانات کو مکمل طور پر مسمار کیا گیا، جب کہ 2500 سے زائد عمارات کو جزوی نقصان پہنچا۔ قابض افواج مزید 106 عمارات کو منہدم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس سے 250 سے زائد رہائشی یونٹ متاثر ہوں گے۔ ان کیمپوں میں اب تک 13 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں ایک بچہ، دو خواتین اور ایک حاملہ خاتون شامل ہیں۔ 25,000 سے زائد افراد کو کیمپ چھوڑنا پڑا ہے، اور مقامی کمیٹیوں نے وہاں کی صورت حال کو "تقریباً بے جان زون” قرار دیا ہے۔

خواتین و بچوں پر نفسیاتی و جسمانی اثرات

جاری اسرائیلی جارحیت نے فلسطینی عوام کو شدید نفسیاتی اور انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچے بدترین اثرات کا شکار ہیں، جب کہ طبی سہولیات، خوراک اور پناہ کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

7 اکتوبر کے بعد مغربی کنارے میں 986 شہادتیں

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں قابض افواج اور یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم 986 فلسطینی شہید اور 7,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

عالمی عدالت انصاف: اسرائیلی قبضہ غیر قانونی

یاد رہے کہ جولائی میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور القدس میں تمام یہودی بستیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اسرائیل نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین