( مشرق نامہ) ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے تصدیق کی ہے کہ تہران میں واقع ایوین جیل پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 71 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں عام شہری، جیل انتظامیہ کے اہلکار، قیدیوں کے اہل خانہ، اور آس پاس کے مکین شامل ہیں۔
جہانگیر نے اس حملے کو "مکمل جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف جیل بلکہ اس کے ارد گرد کے شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
رہائشی علاقوں پر بھی شدید اثرات
انہوں نے بتایا کہ جیل کے ملاقات ہال اور عدالتی عمارتوں کے نزدیک رہائش پذیر شہریوں کو وسیع مالی اور جسمانی نقصان پہنچا ہے اور ان میں سے کچھ افراد شہید بھی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت کئی خاندان جیل میں ملاقات یا قانونی معاملات کے لیے موجود تھے، اور
"ہمارے کئی ہم وطن یا تو زخمی ہوئے یا شہید ہو گئے”۔
شہدا میں جیل عملہ، فوجی، قیدی اور شہری شامل
جہانگیر کے مطابق شہدا میں جیل انتظامیہ کے اہلکار، بھرتی شدہ سپاہی، قیدی، ان کے اہل خانہ، اور نزدیکی علاقوں کے عام شہری شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے بعض کو جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ دیگر کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ کئی زخمیوں کو علاج کے بعد فارغ بھی کر دیا گیا ہے۔
12 روزہ جنگ اور جنگ بندی
ایوین جیل پر یہ بمباری "اسرائیل” کی 13 جون سے شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حصہ تھی، جس میں اس نے ایران کے جوہری و عسکری مراکز اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں ایران نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی اہداف پر میزائل حملے کیے۔
اسی جنگ کے دوران امریکہ نے بھی ایران کے جوہری تنصیبات پر بنکر شکن بموں سے حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت جنگ "سرکاری طور پر ختم” ہو گئی ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس جنگ بندی کو ایک "اسٹریٹیجک فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ
"اسلامی جمہوریہ نے دشمنوں کو جنگ بندی پر مجبور کر دیا”۔

