( مشرق نامہ) سڈنی میں جمعہ کے روز اسرائیل کو اسلحہ برآمد کرنے کے خلاف ہونے والا فلسطین حامی احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا، جس کے دوران پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا اور ایک سابق سیاسی امیدوار شدید زخمی ہو گئیں۔
یہ مظاہرہ SEC Plating نامی آسٹریلوی کمپنی کے دفتر کے باہر منعقد ہوا، جس پر الزام ہے کہ وہ ایسے پرزہ جات فراہم کرتی ہے جو اسرائیلی فضائیہ کے F-35 طیاروں میں استعمال ہوتے ہیں — یہ وہی طیارے ہیں جنہیں غزہ پر حملوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کو جنگی معاونت پر احتجاج
یہ احتجاج Greens New South Wales پارٹی کی حمایت سے منعقد کیا گیا، جس کا مؤقف ہے کہ SEC Plating کی خدمات اسرائیلی جارحیت میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ پارٹی کے مطابق:
"اسرائیل کا F-35 بیڑا فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی جاری رکھنے کے لیے ایسے ہی عالمی سپلائی چین پر انحصار کرتا ہے۔”
پولیس کا کریک ڈاؤن
نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جب کمپنی کی عمارت تک رسائی روکنے کی کوشش کی تو انہیں منتشر ہونے کا حکم دیا گیا۔ حکم نہ ماننے پر پانچ مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر پولیس احکامات کی خلاف ورزی اور فرار کی کوشش جیسے الزامات لگائے گئے۔ تمام گرفتار شدگان کو مشروط ضمانت پر رہا کیا گیا ہے اور وہ 15 جولائی کو بینک ٹاؤن کی مقامی عدالت میں پیش ہوں گے۔
گرفتار ہونے والوں میں 35 سالہ ہنّا تھامس بھی شامل ہیں، جو گرینز کی سابق امیدوار اور ملائیشیا کے سابق اٹارنی جنرل تان سری ٹومی تھامس کی بیٹی ہیں۔ پولیس نے تصدیق کی کہ انہیں مظاہرے کے دوران چہرے پر شدید چوٹیں آئیں اور انہیں فوری طور پر بینک ٹاؤن اسپتال منتقل کیا گیا۔
آن لائن گردش کرتی تصاویر میں ہنّا تھامس کی آنکھ پر شدید سوجن اور خون دکھائی دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔
احتجاج "غیر مجاز” قرار، قانونی خدشات
دی گارڈین کے مطابق، ہنّا تھامس نے SEC Plating کی خدمات — خاص طور پر ایرو اسپیس اور دفاعی شعبے میں استعمال ہونے والے "الیکٹروپلیٹنگ اور سطحی کوٹنگ” — کے خلاف احتجاج میں شرکت کی تھی۔
پولیس کے مطابق یہ مظاہرہ نیو ساؤتھ ویلز کے سخت انسدادِ احتجاج قوانین کے تحت “غیر مجاز” تھا، اور تھامس کو "منتقل ہونے کے حکم” کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
سیاسی ردعمل
نیو ساؤتھ ویلز اسمبلی میں گرینز کی رکن اور انصاف کی ترجمان سو ہیگنسن نے پولیس کے طرز عمل کو "وحشیانہ اور ضرورت سے زیادہ” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ
"یہ ایک سنگین سوال ہے کہ آج صبح عوام کے پرامن اجتماع کے حق کو استعمال کرنے والے افراد کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ قانونی تھا بھی یا نہیں؟”
اسلحہ تجارت اور آزادی اظہار پر سوالات
اس واقعے نے نہ صرف آسٹریلوی کمپنیوں کے اسرائیل سے اسلحہ کے روابط پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے بلکہ سخت احتجاجی قوانین کے سبب شہری آزادیوں پر بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔
مظاہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو اب ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے — اور یہی جبر اصل انسانی المیہ کو چھپانے کا ہتھیار بن چکا ہے۔

