بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامینارملائزیشن کے خلاف احتجاج: اردن نے اسرائیل سے باسکٹ بال میچ کا...

نارملائزیشن کے خلاف احتجاج: اردن نے اسرائیل سے باسکٹ بال میچ کا بائیکاٹ کر دیا
ن

( مشرق نامہ) اردن نے فیبا انڈر-19 ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں اسرائیل کے خلاف شرکت سے انکار کرتے ہوئے باضابطہ طور پر مقابلہ چھوڑ دیا۔ یہ فیصلہ غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں کھیلوں کے ذریعے نارملائزیشن کی مخالفت میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں اتوار کی شام لوزان، سوئٹزرلینڈ میں طے شدہ میچ منسوخ ہو گیا۔

فیبا کے قواعد کے مطابق، میچ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں اسرائیل کو 20-0 تکنیکی فتح دے دی گئی۔ یہ میچ ورلڈ کپ 2025 کے گروپ اسٹیج کا حصہ تھا، جس میں میزبان سوئٹزرلینڈ اور ڈومینیکن ریپبلک کی ٹیمیں بھی شامل ہیں۔

کھیلوں کے ذریعے نارملائزیشن کے خلاف عوامی ردعمل

اردن کے اس فیصلے کے پیچھے عوامی اور سیاسی دباؤ نمایاں رہا، جس میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی "کھیلوں کے ذریعے نارملائزیشن” کو سختی سے مسترد کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر "ہماری ٹیم نارملائزیشن کے خلاف” جیسے ہیش ٹیگز وسیع پیمانے پر وائرل ہوئے۔

اردن کی ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن، حلا عاهد نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
"ایسے ملک کی نمائندہ ٹیم سے کھیلنے میں کون سی کھیل کی روح پنہاں ہے، جو غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے؟”

اسرائیلی حکام کا ردعمل

اسرائیلی کوچ شَروں اَوراھامی اور ان کی ٹیم امید کر رہے تھے کہ میچ منعقد ہو گا، تاہم اردنی ٹیم نے اتوار کی دوپہر کو باضابطہ طور پر اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔

اسرائیلی باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے چیئرمین، آموس فرِشمان نے بیان دیا:
"مجھے افسوس ہے کہ اردن نے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ میری امید تھی کہ وہ میدان میں آ کر دنیا کو ایک مختلف راستہ دکھائیں گے، خاص طور پر ان حالات میں۔ کھیلوں کو تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے، نہ کہ سیاسی محاذ بننا چاہیے۔”

فلسطینی کھیلوں کی تباہی

تاہم، فرِشمان نے اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر شروع کی گئی تباہ کن جنگ میں اب تک کم از کم 708 فلسطینی کھلاڑی شہید کیے جا چکے ہیں، جن میں 95 بچے بھی شامل ہیں، جیسا کہ فلسطینی اسپورٹس میڈیا ایسوسی ایشن (PSMA) نے رپورٹ کیا ہے۔

PSMA کے سربراہ مصطفی سیام کے مطابق، شہید ہونے والوں میں 369 فٹبال کھلاڑی، 105 اسکاوٹنگ تنظیموں سے وابستہ ارکان، اور 234 دیگر کھیلوں کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹس شامل ہیں۔

سیام نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں، کیونکہ فضائی حملے بدستور جاری ہیں، کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور متاثرہ علاقوں تک رسائی محدود ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 273 کھیلوں کی سہولیات — جن میں اسٹیڈیمز، جم، اور کلب ہاؤسز شامل ہیں — کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

سیام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر فلسطینی کھیلوں کو نشانہ بنا رہا ہے، کیونکہ وہ غزہ کے معاشرتی اور ثقافتی وجود کا لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو فلسطینی کھیلوں کے لیے "وجودی چیلنج” قرار دیا۔

"یہ حملے غزہ کی پٹی میں کھیلوں کے مستقبل پر گہرے منفی اثرات ڈالیں گے اور ہزاروں ایتھلیٹس کی زندگیوں کو تباہ کر دیں گے،” سیام نے کہا۔

فیبا قوانین اور ممکنہ کارروائی

فیبا کے موجودہ قواعد کے تحت کسی بھی ٹیم کو گروپ مرحلے میں دو میچوں تک غیر حاضری کی اجازت ہے، جس سے وہ فوری طور پر ٹورنامنٹ سے خارج نہیں ہوتی۔

اردن نے بظاہر اسی اصول کے تحت اسرائیل کے خلاف میچ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ ٹورنامنٹ میں اپنی شرکت برقرار رکھ سکے، تاہم امکان ہے کہ فیبا مزید تادیبی کارروائی پر غور کرے گا۔

یہ اقدام نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ایک واضح سیاسی پیغام ہے بلکہ اسرائیلی ریاست کی جانب سے جاری ظلم و ستم کے خلاف بڑھتی ہوئی عالمی مزاحمت کا بھی مظہر ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین