بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامی67 فیصد اسرائیلی شہری غزہ میں جنگ بندی کے حامی: سروے

67 فیصد اسرائیلی شہری غزہ میں جنگ بندی کے حامی: سروے
6

(مشرق نامہ) ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 67 فیصد اسرائیلی غزہ میں جنگ ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حق میں ہیں، جب کہ نصف سے زائد ایران کے ساتھ جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک تازہ سروے کے مطابق، زیادہ تر اسرائیلی غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے تبادلے کے معاہدے کے حامی ہیں۔ یہ سروے اسرائیلی میڈیا میں شائع ہوا۔ دوسری جانب، "والا” ویب سائٹ پر شائع شدہ سروے کے مطابق، نصف سے زائد افراد ایران کے ساتھ جنگ بندی کے حامی ہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ 67 فیصد اسرائیلی اب غزہ میں جنگ ختم کرنے اور قیدیوں کے تبادلے پر مبنی معاہدے کی حمایت کرتے ہیں، جو اس جاری جنگ کے دوران عوامی رائے میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جنگ کے پھیلاؤ اور بیک وقت کئی محاذوں پر الجھنے کے خدشات کے باعث یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

اسی دوران، 52 فیصد شرکاء نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی حمایت کی، جب کہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اس بات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا جنگ کو جاری رکھنا اب بھی فائدہ مند ہے یا نہیں، خاص طور پر انسانی و معاشی نقصانات کے تناظر میں، اور جب عوامی دباؤ سیاسی حل اور سکیورٹی معاہدوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

اس سے قبل، اسرائیلی مالیاتی اخبار "گلوبز” نے رپورٹ کیا کہ ہر ایرانی میزائل جو اسرائیلی بستیوں اور شہروں پر گرا، اوسطاً 4,000 معاوضے کے دعووں کا سبب بنا۔

‘اسرائیل’ کو 40,000 سے زائد معاوضے کے دعووں کا سامنا

ایرانی میزائل حملوں کے صرف دو ہفتوں کے اندر تقریباً 40,000 معاوضے کے دعوے دائر کیے گئے، جن میں زیادہ تر اُن علاقوں سے ہیں جو براہ راست ان حملوں کی زد میں آئے۔ یہ بات اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے معاوضہ شعبے کے سربراہ امیر دہان نے اخبار "معاریو” کو بتائی۔

دہان نے خبردار کیا کہ جب ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گی تو دعووں کی تعداد 50,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتھارٹی اب تک جنگ کے آغاز سے 2.5 ارب شیکل (734 ملین ڈالر) کی ادائیگیاں کر چکی ہے، اور اندازہ ہے کہ یہ رقم دوگنی ہو کر 5 ارب شیکل (1.46 ارب ڈالر) تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ دعووں کی مالیت 6 ارب شیکل (1.76 ارب ڈالر) ہو چکی ہے، جب کہ جنگ سے پہلے فنڈ میں کل 9.5 ارب شیکل (2.64 ارب ڈالر) موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر شمالی ‘اسرائیل’ میں کئی کاروباری ادارے ابھی تک اپنے دعوے دائر نہیں کر سکے۔

انہوں نے تباہی کی شدت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وائزمین انسٹیٹیوٹ میں میزائل حملوں سے تقریباً 2 ارب شیکل کا نقصان ہوا اور تقریباً 25 عمارتیں ساختی طور پر ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، جب کہ بازان ریفائنری کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین