اسلام آباد (مشرق نامہ)پاکستان نے چین کے ساتھ 3.7 ارب ڈالر مالیت کے تجارتی قرضوں کے معاہدے حتمی کر لیے ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد (8.9 ارب) سے بڑھ کر 12.4 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ ان معاہدوں سے پاکستان کو آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے مطابق مالی سال 2024-25 کے اختتام تک 14 ارب ڈالر کے ذخائر برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
معاہدے چینی بینکوں ICBC، بینک آف چائنا اور چائنا ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ طے پائے۔
ان میں سے 2.1 ارب ڈالر کے قرضے RMB کرنسی میں جاری کیے گئے، جن کی مدت تین سال ہے۔
ذرائع کے مطابق، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے قرضوں کی حتمی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔
اس سے قبل 15 ارب RMB کے قرض کی میعاد ختم ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے تھے، جنہیں نئے معاہدوں سے بحال کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
اہم نکات:
روپے پر دباؤ برقرار، مارکیٹ میں ڈالر کی قلت
$3.7 ارب قرض کی فراہمی میں چین کا مرکزی کردار
ذخائر کی بحالی سے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر عمل ممکن
تجارتی قرضے امریکی ڈالر کے بجائے چینی RMB میں دیے گئے
چین $1.8 ارب کے سرکاری قرضے ری شیڈول کرنے پر آمادہ

