یورینیئم ذخائر محفوظ، ایران نے IAEA چیف کے دورۂ جوہری مقامات کے مطالبے کو "بد نیتی پر مبنی اور بےمعنی” قرار دے دیا
(مشرق نامہ) ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی کی جانب سے ملک کے جوہری تنصیبات کے دورے کے مطالبے کو "بےمعنی اور ممکنہ طور پر بد نیتی پر مبنی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ وہی تنصیبات ہیں جنہیں حالیہ دنوں میں امریکی فوجی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کے روز اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر کہا کہ گروسی کی جانب سے ان بمباری زدہ مقامات کے معائنہ کی ضد، جسے وہ حفاظتی اقدامات کے بہانے پیش کر رہے ہیں، نہ صرف بے معنی ہے بلکہ اس میں بدنیتی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے مفادات، عوام اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب IAEA کے سربراہ نے پیر کے روز ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کے دوران مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ان ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی دی جائے جو حالیہ امریکی جارحیت کا نشانہ بنی ہیں، تاکہ ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ تین جوہری تنصیبات — فردو، نطنز اور اصفہان — اتوار کی صبح بلا اشتعال اور غیرقانونی امریکی حملے کی زد میں آئیں، جس کی ذمہ داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری طور پر قبول کی۔
ٹرمپ نے بدھ کے روز نیدرلینڈز میں نیٹو اجلاس کے دوران دعویٰ کیا کہ اس حملے کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو "مکمل طور پر ختم” کر دیا گیا، جو بین الاقوامی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تاہم ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس، امریکی محکمہ دفاع کی انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کی ایک ابتدائی خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان حملوں سے تینوں تنصیبات کو صرف معمولی نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ مکمل طور پر محفوظ ہے، باوجود اس کے کہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام تباہ ہو چکا ہے۔
عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے IAEA کے ساتھ تعاون معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جب تک کہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ اقدام گروسی کے اس افسوسناک کردار کا نتیجہ ہے جس کے تحت انہوں نے یہ حقیقت چھپانے میں مدد کی کہ IAEA نے دس سال قبل تمام سابقہ معاملات بند کر دیے تھے۔
عراقچی کے مطابق گروسی کے جانبدارانہ اقدامات نے ایران کے خلاف بورڈ آف گورنرز کی 35 رکنی سیاسی قرارداد کے منظور ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے اسرائیل اور امریکہ کی ایران پر غیرقانونی بمباری کے پس منظر میں پیش کیا گیا تھا۔
12 جون کو IAEA بورڈ آف گورنرز نے ایک قرارداد منظور کی، جس میں ایران پر جوہری ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ قرارداد برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پیش کی، جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی، اور اسے 19 ووٹوں سے منظور کیا گیا، جبکہ تین ممالک نے مخالفت کی اور 11 نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔
عراقچی نے گروسی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے IAEA کے چارٹر اور حفاظتی ضوابط کی واضح خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے میں کوتاہی کی، جو ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ IAEA اور اس کے ڈائریکٹر جنرل اس سنگین صورتِ حال کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیلی حکومت نے ایران کی سرزمین پر مکمل جنگی حملہ کیا، جس میں کئی عسکری اور جوہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈرز، جوہری سائنسدان اور عام شہری بھی مارے گئے۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق، اب تک اس جارحیت میں 627 ایرانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

