بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیمیٹا کو کاپی رائٹ مقدمے میں کامیابی، عدالت نے کتابوں پر اے...

میٹا کو کاپی رائٹ مقدمے میں کامیابی، عدالت نے کتابوں پر اے آئی تربیت کو "فیئر یوز” قرار دیا
م

سان فرانسسکو(مشرق نامہ) :

امریکی عدالت نے بدھ کے روز ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو اُن مصنفین کے خلاف قانونی جنگ میں فتح دلائی ہے، جنہوں نے کمپنی پر بغیر اجازت اپنی تخلیقات کو مصنوعی ذہانت (AI) کے تربیتی مواد کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

سان فرانسسکو کے ضلع عدالت کے جج وِنس چھابریا نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ میٹا کی جانب سے ان کتابوں کو Llama نامی اوپن سورس AI ماڈل کی تربیت کے لیے استعمال کرنا اس حد تک "تبدیلی آمیز” (transformative) تھا کہ وہ امریکی کاپی رائٹ قانون کے تحت "منصفانہ استعمال” (fair use) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ اس ہفتے AI کمپنیوں کے حق میں عدالت کا دوسرا بڑا فیصلہ ہے۔ تاہم، جج نے انتباہ کیا کہ مصنفین اگر بہتر قانونی جواز پیش کرتے تو شاید یہ دعویٰ کامیاب ہو سکتا تھا، کیونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ AI ماڈلز کے ذریعے وہ ایسے اوزار تیار کر رہے ہیں جو لاکھوں صارفین کو مصنفین کے ساتھ مارکیٹ میں مقابلے کی صلاحیت دے سکتے ہیں۔

چھابریا کے مطابق:

"چاہے تربیت کتنی ہی تبدیلی آمیز کیوں نہ ہو، یہ ماننا مشکل ہے کہ یہ ‘منصفانہ استعمال’ کہلائے گا جب کہ ایسی کتابیں استعمال کر کے ایک ایسا آلہ تیار کیا جا رہا ہو جو اربوں، بلکہ کھربوں ڈالر کا منافع دے سکتا ہے، اور ساتھ ہی ان ہی کتابوں کی مارکیٹ کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔”

مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کی تربیت کے لیے وسیع مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنفین، موسیقار، بصری فنکار اور نیوز ادارے ان کمپنیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں، جنہوں نے اُن کا کام بغیر اجازت یا معاوضے کے استعمال کیا۔

AI کمپنیوں کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ اُن کا عمل "منصفانہ استعمال” کے تحت آتا ہے کیونکہ وہ مواد کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہیں اور یہ عمل جدت کے لیے ناگزیر ہے۔

میٹا کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی AFP سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:

"ہم عدالت کے آج کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔ اوپن سورس AI ماڈلز انقلابی اختراعات، پیداوار اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دے رہے ہیں، اور منصفانہ استعمال کا قانون ان ٹیکنالوجیز کی تعمیر کے لیے ایک اہم قانونی بنیاد ہے۔”

مقدمے کی تفصیلات

عدالتی دستاویزات کے مطابق، مدعی مصنفین نے الزام لگایا تھا کہ میٹا نے اُن کی کتابوں کے قزاق شدہ (pirated) نسخے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی Llama AI کی تربیت کی۔ جن کتابوں کا ذکر ہوا، اُن میں سارہ سلورمین کی مزاحیہ یادداشت The Bedwetter اور جُونوٹ ڈیا ز کا پُلٹزر انعام یافتہ ناول The Brief Wondrous Life of Oscar Wao شامل ہیں۔

جج چھابریا نے واضح کیا کہ٬

"یہ فیصلہ اس مفروضے کی تائید نہیں کرتا کہ میٹا کا کاپی رائٹ شدہ مواد کو استعمال کرنا قانونی ہے، بلکہ صرف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مدعی فریق نے غلط دلائل دیے اور صحیح مؤقف کے لیے مناسب مواد عدالت میں پیش نہ کر سکا۔”

ایک اور AI کمپنی کو بھی ریلیف

اسی ہفتے ایک اور مقدمے میں، جج ولیم آلسمپ نے AI کمپنی Anthropic کے حق میں فیصلہ دیا، جس پر Claude نامی AI ماڈل کی تربیت کے لیے کاپی رائٹ شدہ کتابوں کو استعمال کرنے کا الزام تھا۔

آلسمپ نے کہا کہ Claude اور اس کے ابتدائی ماڈلز کی تربیت میں استعمال ہونے والی کتابیں "انتہائی تبدیلی آمیز” طریقے سے استعمال ہوئیں، اور یہ عمل امریکی کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت ‘منصفانہ استعمال’ میں شمار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٬

"یہ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں دیکھی جانے والی سب سے زیادہ تبدیلی آمیز ایجادات میں سے ایک ہے۔”
انہوں نے AI کی تربیت کو انسانی مطالعے کے عمل سے تشبیہ دی۔

یہ مقدمہ مصنفین انڈریا بارٹز، چارلس گریبر، اور کرک والیس جانسن کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کتابیں غیرقانونی طور پر نقل کی گئیں تاکہ Anthropic کی چیٹ بوٹ Claude کو تربیت دی جا سکے۔

البتہ، جج نے Anthropic کو مکمل استثنا دینے سے انکار کر دیا، اور کہا کہ کمپنی کا لاکھوں قزاق شدہ کتابوں کو مستقل ڈیجیٹل لائبریری کی صورت میں محفوظ کرنا "منصفانہ استعمال” کی قانونی چھتری میں نہیں آتا

مقبول مضامین

مقبول مضامین