لندن (مشرق نامہ) برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ انگلینڈ کے ایک فضائی اڈے پر گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک فلسطین حامی مظاہرے کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس میں فوجی طیاروں پر اسپرے پینٹ کیا گیا تھا۔
پولیس کے بیان کے مطابق، 29 سالہ خاتون اور دو مرد جن کی عمریں بالترتیب 36 اور 24 سال ہیں، کو دہشت گردی کے اقدامات کی منصوبہ بندی، تیاری یا اس کی ترغیب دینے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ 41 سالہ ایک اور خاتون کو مجرم کی معاونت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
20 جون کو فلسطین ایکشن نامی گروپ کے دو کارکنوں نے وسطی انگلینڈ کے آکسفورڈ شائر میں واقع ایئر بیس میں گھس کر ایندھن بھرنے اور سامان کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے دو طیاروں پر سرخ رنگ کا اسپرے کیا اور انہیں آہنی سلاخوں سے نقصان پہنچایا۔ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس اقدام کو شرمناک قرار دیا۔
واقعے کے چند دن بعد، برطانیہ کی وزیر داخلہ یویٹ کوپر نے اعلان کیا کہ حکومت دہشت گردی کے قوانین کے تحت فلسطین ایکشن گروپ پر پابندی لگانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، کیونکہ اس کے اقدامات دن بہ دن زیادہ پرتشدد ہوتے جا رہے ہیں اور ان سے لاکھوں پاؤنڈز کا نقصان ہو چکا ہے۔
فلسطین ایکشن نے برطانیہ میں اسرائیلی دفاعی کمپنی ایل بِٹ سسٹمز اور دیگر اسرائیل سے منسلک کمپنیوں کے خلاف مظاہرے منظم کیے ہیں، خاص طور پر غزہ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے۔ جمعے کی گرفتاریوں کے بعد گروپ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پرامن احتجاج کو کچل رہی ہے جو اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں دہشت گردی کی تیاری یا کسی کی معاونت کرنے پر زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ حکومت نے تمام دفاعی تنصیبات کی سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
ادھر اسرائیل نے بارہا ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی شہری ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 56,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

