بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیفیفا سے اسرائیل پر پابندی کی اپیل

فیفا سے اسرائیل پر پابندی کی اپیل
ف

لندن (مشرق نامہ) قانونی ماہرین نے فیفا کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور فیفا کے اپنے ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے، اور اس پر پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔ اقوام متحدہ کے سابق نمائندوں، ممتاز بین الاقوامی وکلاء، اور اسرائیلی مؤرخ ایلان پاپے سمیت 30 ماہرین نے فیفا کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اسرائیلی فٹبال ایسوسی ایشن اور اس سے منسلک کلب غیر قانونی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں میچز منعقد کر رہے ہیں، جو نہ صرف بین الاقوامی انسانی حقوق بلکہ فیفا کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ خط فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کی جانب سے مارچ 2024 میں دی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا، جس میں اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

خط میں اقوام متحدہ کی قراردادوں، جنیوا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی ہیں، اور ان میں کھیلنے والی ٹیمیں فیفا کے آرٹیکل 64(2) کی خلاف ورزی کر رہی ہیں، جس کے تحت کوئی بھی کلب کسی دوسرے ملک کی اجازت کے بغیر اس کی سرزمین پر سرگرمیاں نہیں چلا سکتا۔ اس سلسلے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود اسرائیلی کلبز واضح طور پر فیفا کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فیفا نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تو یہ دوہرے معیار کا واضح ثبوت ہو گا، کیونکہ ماضی میں روس اور جنوبی افریقہ کے خلاف ایسی ہی خلاف ورزیوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اسرائیلی کلب بیتار یروشلم، جسے ملک کی سب سے نسل پرست ٹیم کہا جاتا ہے، فلسطینی اور عرب کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل نہیں کرتا، اور اسے اسرائیلی وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ماہرین نے فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف سخت قدم اٹھائے تاکہ کھیل میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین