بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایران کا اسرائیل کو سخت انتباہ

ایران کا اسرائیل کو سخت انتباہ
ا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ایران کے خلاف 12 روزہ جارحانہ جنگ کو کسی معاہدے یا شرط کے بغیر محض مایوسی کے عالم میں ختم کیا۔ جمعرات کو ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے اسرائیلی و امریکی جارحیت، یورپی کردار، جوہری ایجنسی سے تعاون کی معطلی، ایران-امریکہ مذاکرات کے مستقبل، اور اپنے جنیوا و استنبول کے دورے پر گفتگو کی۔ عراقچی نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے جوابی حملوں سے شدید نقصان اٹھایا اور خود ہی ان کارروائیوں کو روکنے کی درخواست کی، اور عندیہ دیا کہ اگر ایران حملے بند کرے تو وہ بھی ایسا کرے گا۔ تاہم ایران نے واضح کیا کہ وہ صرف اسی صورت میں کارروائیاں روکے گا جب دشمن بلا شرط اپنی جارحیت بند کرے، اور آخرکار اسرائیل کو اس شرط کو قبول کرنا پڑا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی سے کوئی مذاکرات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی مذاکرات یا فریقین کے درمیان کسی معاہدے کا نتیجہ ہوتی ہے، اور ایران ایسی کسی رضامندی کو تسلیم نہیں کرتا۔ عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ خلاف ورزی کی تو ایران فیصلہ کن ردعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ بندی کی باتوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ اکثر خلاف ورزی کرتا ہے۔ تاہم ایران لبنان نہیں، اور کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا، جیسا کہ ایرانی فوجی قیادت پہلے بھی اعلان کر چکی ہے۔

عراقچی نے کہا کہ ایران-امریکہ جوہری مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ قومی مفاد کی بنیاد پر کیا جائے گا، اور موجودہ حالات میں مذاکرات زیر غور تو ہیں، مگر کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچا گیا۔ اسرائیلی حملوں سے چند دن قبل ان مذاکرات کا چھٹا دور مسقط میں ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ایران کے حق میں آنے والی حمایت، جیسے او آئی سی، خلیجی تعاون کونسل، شنگھائی تعاون تنظیم، اور BRICS جیسے اداروں کی جانب سے، ظاہر کرتی ہے کہ ایران کی عالمی حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کے قطر میں فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پیغام امریکہ کے لیے تھا، خلیجی ممالک کے لیے نہیں۔ انہوں نے عرب ہم منصبوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ اگر امریکہ حملہ کرے گا تو قریبی امریکی اڈے نشانہ بنیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی اور اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، اور خلیجی ممالک کو پیغام دیا کہ ان کی ناراضی بجا ہے، لیکن مسئلہ ان سے نہیں، امریکہ سے ہے۔

عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت نے این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے) کی ساکھ کو مجروح کیا ہے، اور یہ پوری عالمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی کے لیے دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کا معیار صرف اور صرف ایرانی عوام کا مفاد ہے، اور چاہے ایران این پی ٹی میں رہے یا نہ رہے، فیصلہ قومی مفاد کے مطابق کیا جائے گا۔

انہوں نے یورپی ممالک کو خبردار کیا کہ اگر وہ JCPOA معاہدے کے تحت اسنیپ بیک میکانزم کو استعمال کرتے ہیں تو یہ ایک تاریخی غلطی ہوگی اور ایران کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ فی الحال ایران اقوام متحدہ کی جوہری ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ حالیہ سیاسی قرارداد کی بنیاد پر ایران نے جوہری تعاون معطل کر دیا ہے۔

آخر میں عراقچی نے کہا کہ ایران اسرائیلی-امریکی جارحیت کو اقوام متحدہ میں بطور "جارحیت” تسلیم کرانے اور نقصانات کی تلافی کے لیے قانونی اقدامات کرے گا، جس کے لیے انسانی و مالی نقصانات کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام رہبر انقلاب کی ہدایت پر عمل میں لایا جا رہاہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین