تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ایران کی طاقتور مسلح افواج کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف آخری لمحے تک کارروائی جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ پوری ایرانی قوم کی جانب سے وہ اپنی بہادر افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ عراقچی نے بتایا کہ یہ کارروائیاں صبح 4 بجے تک جاری رہیں اور اس دوران مقبوضہ علاقوں پر آخری میزائل حملے کیے گئے، جن کے براہ راست اثرات دیکھے گئے۔
ان حملوں کے فوراً بعد اسرائیل کے مختلف شہروں، جن میں تل ابیب اور حیفہ شامل ہیں، میں ہوائی حملے کے سائرن بجنے لگے اور شہری گھبراہٹ میں پناہ گاہوں کی طرف دوڑتے نظر آئے۔ عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم عراقچی نے اس سے قبل ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ جب تک اسرائیل صبح 4 بجے تک اپنی جارحیت بند نہیں کرتا، ایران بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
یہ تمام واقعات اس کے چند گھنٹوں بعد پیش آئے جب ایران کی مسلح افواج نے امریکی فضائی حملوں کے ردعمل میں قطر میں واقع امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ہیڈکوارٹر، العدید ایئربیس، پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کامیاب کارروائی بشارتِ فتح کے نام سے کی گئی، جو ایران کی پرامن ایٹمی تنصیبات پر امریکہ کی غیر قانونی بمباری کا جواب تھی۔
قبل ازیں، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو ایران اسے تاریخی سبق سکھائے گا۔ عراقچی کے بیان سے اگرچہ جنگ بندی کے امکان کا عندیہ ملتا ہے، لیکن دیگر ایرانی اعلیٰ حکام کی طرف سے اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

