اسلام آباد: عالمی ادارہ صحت (WHO) کی تازہ رپورٹ "گلوبل ٹوبیکو ایپی ڈیمک 2025” کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں تمباکو ٹیکس کی مد میں ریکارڈ 298 ارب روپے (تقریباً 1.1 ارب ڈالر) جمع کیے، جو ملک میں تمباکو کے خلاف مہم میں ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ یہ کامیابی حکومت کی جانب سے 2022 اور 2023 میں کی گئی مالیاتی اصلاحات کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جن میں سگریٹ پر ٹیکس کو تین گنا بڑھانا، کم از کم قیمت کو 63 روپے سے 127 روپے کرنا اور ریٹیل قیمت میں ٹیکس کے حصے کو نمایاں طور پر بڑھانا شامل ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف قانونی سگریٹ کی پیداوار میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی بلکہ حکومتی محصولات میں نمایاں اضافہ بھی ہوا۔ تاہم، اگرچہ پاکستان نے ٹیکس اصلاحات کے میدان میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، لیکن تمباکو کنٹرول پالیسیوں کے دیگر شعبوں میں اب بھی خطرناک حد تک پیچھے ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان ان 40 ممالک میں شامل ہے جنہوں نے تمباکو کنٹرول کے لیے وضع کردہ MPOWER اقدامات میں سے کسی ایک کو بھی اعلیٰ معیار پر مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ان اقدامات میں تمباکو نوشی کی نگرانی، عوام کو دھوئیں سے بچانا، چھوڑنے میں مدد فراہم کرنا، خبردار کرنے والی وارننگز، اشتہارات پر پابندی اور ٹیکس میں اضافہ شامل ہیں۔ پاکستان نے صرف "ٹیکس میں اضافہ” کے پہلو پر مؤثر عملدرآمد کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں، جیسے 2017 میں سستے سگریٹ کے لیے کم ٹیکس متعارف کروانا، حکومت کو اربوں روپے کے نقصان کا باعث بنا۔ اگرچہ نئی سیاسی خواہش اور تکنیکی معاونت کے ذریعے ان پالیسیوں کو ترک کیا گیا، تاہم اب بھی گرافک وارننگز، انسدادی میڈیا مہمات، ای سگریٹ کی ریگولیشن، اور تعلیم و آگاہی جیسے اقدامات پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پڑوسی ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا ان شعبوں میں پاکستان سے آگے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے زور دیا ہے کہ ٹیکس بڑھانا مؤثر ہے، مگر تمباکو کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے تمام محاذوں پر بیک وقت کارروائی ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگرچہ پاکستان کی حالیہ ٹیکس پالیسی ایک مثبت مثال ہے، لیکن قانون سازی، آگاہی اور دیگر شعبوں میں اصلاحات کے بغیر ملک تمباکو صنعت کے خطرناک حربوں کے سامنے بے بس رہے گا۔

