دانشگاه (نیوز ڈیسک) پاکستان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کو اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا فطری حق حاصل ہے، اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر پاکستان کو گہری تشویش ہے۔
بیان میں بڑھتے ہوئے تنازعے کے تناظر میں عام شہریوں کی جان و مال اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا گیا کہ اگر مخاصمت کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاکستان نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اور اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے بحران کے حل کی راہ اپنائیں۔
اس صورتحال سے متعلق ایک اہم پیشرفت میں، نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں قرار دیتے ہوئے عالمی امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔
ڈار نے ایران کے حقِ دفاع کی پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں عالمی برادری کے دوہرے معیار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا پُرامن حل صرف مستقل اور بامقصد مکالمے سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کا یہ دوٹوک مؤقف مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے اس کی وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔

