دانشگاه (نیوز ڈیسک) روس اور اسپین نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس کی وزارت خارجہ نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ
"کسی خودمختار ریاست کی سرزمین کو میزائلوں اور بمباری کا نشانہ بنانا—چاہے اس کے جواز میں کچھ بھی کہا جائے—بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ
"ہم جارحیت کے خاتمے اور سیاسی و سفارتی عمل کی بحالی کے لیے حالات سازگار بنانے کی کوششوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
روس کے اس واضح اور دوٹوک مؤقف کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ کل ماسکو جائیں گے جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔
دوسری جانب اسپین کے وزیر خارجہ خوسے مانوئیل آلباریس بوینو نے ہسپانوی نشریاتی ادارے RTVE سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
"ہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر انتہائی فکرمند ہیں۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام عسکری کارروائیوں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا، اس کے لیے سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ تمام فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔

