دانشگاه (نیوز ڈیسک) اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار اور امریکی میرین انٹیلیجنس افسر اسکاٹ ریٹر نے ایران پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں محض "چہرہ بچانے کی کوشش” قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ حملے کسی بھی ٹھوس عسکری مقصد کے بغیر صرف سیاسی ساکھ بحال کرنے کی ایک علامتی کارروائی تھے۔
المرایدین کو دیے گئے انٹرویو میں ریٹر نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملے "ایک ڈرامائی تماشہ” تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک تھیٹر تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے اپنے جدید ترین ہتھیاروں سے تین خالی مقامات کو نشانہ بنایا تاکہ امریکی صدر عوام کے سامنے یہ دعویٰ کر سکیں کہ امریکہ اب بھی طاقتور ہے۔
دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ایران کے تین جوہری مراکز—فردو، نطنز اور اصفہان—پر حملوں کو "بہت کامیاب” قرار دیا تھا۔
اسکاٹ ریٹر نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ وہ مقامات تھے جنہیں اسرائیل پہلے ہی کئی بار نشانہ بنا چکا تھا اور وہاں کوئی حساس جوہری آلات باقی نہیں تھے۔ ان کے مطابق، اگر حملوں کا مقصد ایران کی یورینیم افزودگی یا جوہری پروگرام کو روکنا یا تباہ کرنا تھا، تو وہ مکمل طور پر ناکام رہے۔
ریٹر کے مطابق ایران نے حملوں سے قبل ہی اپنے افزودہ یورینیم، خاص طور پر 60 فیصد افزودہ ذخیرے، کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا۔ اسی طرح اصفہان میں حساس تنصیبات سے آلات پہلے ہی نکال لیے گئے تھے، اور سنٹری فیوجز کو محفوظ مراکز میں منتقل کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے کہا:
"عملی طور پر کچھ حاصل نہیں کیا گیا، سوائے ایک سیاسی تماشے کے۔”
ریٹر نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد دراصل اسرائیلی حملے کے بعد پیدا شدہ بحران سے امریکی صدر کو نکلنے کا ایک راستہ دینا تھا۔
ایران کی مصلحتی تشخیص کونسل کے رکن محسن رضائی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایران نے حملوں سے قبل ہی اپنا افزودہ جوہری مواد محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا۔ یہ اقدام بظاہر اس حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس کے تحت ایران نے کسی ممکنہ حملے کی صورت میں نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی۔
ریٹر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی جوابی کارروائیاں مؤثر رہی ہیں جن سے امریکہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اختتاماً کہا کہ
یہ ایک بڑا سیاسی تماشہ تھا تاکہ صدر اپنی ساکھ بچا سکیں اور اس بگڑتے ہوئے بحران سے نکلنے کی کوئی صورت نکال سکیں۔

