بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا ایران کو وارننگ، رجیم چینج کا عندیہ

ٹرمپ کا ایران کو وارننگ، رجیم چینج کا عندیہ
ٹ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران پر امریکی حملوں کے بعد رجیم چینج کا امکان ظاہر کیا، جبکہ ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے تہران کو جوابی کارروائی سے باز رہنے کی وارننگ دی۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا:رجیم چینج کی اصطلاح سیاسی طور پر درست نہیں سمجھی جاتی، لیکن اگر موجودہ ایرانی حکومت Make Iran Great Again میں ناکام ہے، تو پھر رجیم چینج کیوں نہ ہو؟ MIGA!!!

یہ بیان اس وقت آیا جب نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سمیت دیگر حکام نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہے۔ ہیگستھ نے پینٹاگون میں کہا، یہ مشن رجیم چینج کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک مخصوص اور درست آپریشن تھا جس کا ہدف ایران کا جوہری پروگرام تھا۔

وینس نے این بی سی کو انٹرویو میں کہا:ہم اس معاملے کو بڑھانا نہیں چاہتے، ہم صرف ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ چاہتے ہیں، اس کے بعد ایک طویل مدتی معاہدے کے لیے بات چیت چاہتے ہیں۔

آپریشن مڈنائٹ ہیمر کی تیاری چند مخصوص افراد تک محدود رہی۔ اس آپریشن میں سات B-2 بمبار طیارے امریکہ سے 18 گھنٹے کا سفر کر کے ایران پہنچے اور 14 بم گرائے۔ جنرل ڈین کین کے مطابق، کل 75 جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں 125 فوجی طیارے، 30,000 پاؤنڈ وزنی بم، اور ٹوماہاک میزائل شامل تھے۔

یہ کارروائی مشرق وسطیٰ کو ایک اور بڑے تصادم کے دہانے پر لے آئی، جہاں پہلے ہی غزہ، لبنان، اور شام میں جنگیں جاری ہیں۔

شدید نقصان

فورڈو میں پہاڑ پر گرنے والے بموں کا اثر خلا سے بھی دیکھا گیا۔ جنرل کین کے مطابق تینوں مقامات کو شدید نقصان پہنچا، تاہم جوہری صلاحیت کے مکمل خاتمے پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، فورڈو سے افزودہ یورینیم پہلے ہی کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ جبکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "نقصان یادگار نوعیت کا ہے” اور ایران کے تینوں اہم جوہری مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔

ایران نے اس حملے کے جواب میں اسرائیل پر میزائل داغے، جن سے تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، لیکن امریکہ پر براہ راست حملے یا آبنائے ہرمز کو بند کرنے جیسے اقدامات سے تاحال گریز کیا گیا ہے۔

جنگ کی خواہش نہیں

امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، اور یہ حملے کھلے عام جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مارکو روبیو کے مطابق، اگر ایران نے چھیڑ چھاڑ کی، تو ہمارے پاس مزید اہداف موجود ہیں، لیکن فی الحال مزید کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

امریکی سیاست اور عوامی ردعمل

کئی ڈیموکریٹس کو حملوں کے بعد آگاہ کیا گیا، جب کہ ریپبلکن رہنماؤں کو پہلے ہی بریفنگ دی گئی تھی۔ کچھ شہروں میں امن کے حامی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے۔

آخر میں، وزیر دفاع ہیگستھ نے کہا:یہ حملے لا محدود نہیں، ہم نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ اگر ایران کچھ نہیں کرتا، تو ہم بھی مزید کچھ نہیں کریں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین