سی این این کا انکشاف: صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ کیسے کیا؟
ایک حالیہ سی این این تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا تاریخی اور خفیہ فیصلہ کیسے کیا، جو امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈال چکا ہے۔
پسِ منظر:
جمعہ 21 جون 2025 کی شام، جب صدر ٹرمپ نیو جرسی کے اپنے گالف کلب میں موجود تھے اور ظاہری طور پر پرسکون دکھائی دے رہے تھے—حتیٰ کہ OpenAI کے سی ای او سیم آلٹمین سے ہلکی پھلکی گفتگو بھی کی—اُسی وقت امریکہ کے بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے میزوری سے اُڑان بھرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے پاس 30,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم تھے، اور ان کے اہداف تھے: ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات۔
"آپریشن مڈنائٹ ہیمر”:
سی این این رپورٹ کے مطابق، اس خفیہ فوجی کارروائی میں اسٹریٹیجک فریب دہی (strategic deception) بھی استعمال کی گئی۔ مغرب کی طرف ڈیکوئی طیارے اُڑائے گئے تاکہ اصل حملہ آوروں کی سمت چھپائی جا سکے۔ ہفتے کے دن تک ٹرمپ واشنگٹن واپس آ چکے تھے اور وائٹ ہاؤس کی سیچوئیشن روم میں بیٹھ کر حملے کو براہ راست دیکھ رہے تھے۔
ٹرمپ کا قوم سے خطاب:
اسی رات وائٹ ہاؤس کے کراس ہال سے قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا:آج رات، میں دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ یہ حملے ایک شاندار فوجی کامیابی تھے۔ ایران، جو مشرق وسطیٰ کا بدمعاش ہے، اب امن کرے—ورنہ آئندہ حملے اس سے کہیں زیادہ شدید اور آسان ہوں گے۔
اگرچہ صدر نے کہا کہ سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے، سی این این کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کا فیصلہ کئی دن پہلے ہی کر لیا گیا تھا۔
آخری لمحات تک اختیار:صدر کے پاس آخری لمحے تک حملہ روکنے کا اختیار تھا، مگر انہوں نے کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعد میں تصدیق کی کہ:یہ فیصلہ، جسے اب آپریشن مڈنائٹ ہیمر کے نام سے یاد کیا جا رہا ہے، امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو رہا ہے۔
سی این این کی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا تاریخی اور خفیہ فیصلہ کیسے کیا، جو امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
جمعہ، 21 جون 2025 کی شام جب ٹرمپ نیو جرسی میں واقع اپنے گالف کلب میں موجود تھے، امریکہ کے B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے ریاست مزوری سے روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے، جنہیں 30,000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بموں سے لیس کیا گیا تھا۔ ان کا ہدف ایران کے جوہری مراکز: فردو، نطنز اور اصفہان تھے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ بظاہر پُرسکون تھے اور OpenAI کے سی ای او سیم آلٹ مین سے ہنسی مذاق بھی کر رہے تھے، لیکن اسی وقت انہوں نے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کی حتمی منظوری دے دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، اس مشن کی کامیابی کا انحصار چالاکی سے تیار کی گئی اسٹریٹیجک دھوکہ دہی پر بھی تھا۔ طیارے مغربی سمت میں بطور ڈیکوئے بھیجے گئے تاکہ اصل حملے کی سمت چھپائی جا سکے۔
ہفتے کے دن ٹرمپ واپس واشنگٹن پہنچ گئے اور وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم سے اس آپریشن کو براہِ راست مانیٹر کیا۔
رات گئے کراس ہال سے قوم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا:آج رات میں دنیا کو اطلاع دے رہا ہوں کہ یہ حملے ایک شاندار فوجی کامیابی تھے۔ ایران، جو مشرق وسطیٰ کا غنڈہ ہے، اب امن کرے۔ اگر نہ کیا، تو اگلے حملے کہیں زیادہ بڑے اور آسان ہوں گے۔
اگرچہ ٹرمپ نے سرکاری طور پر کہا کہ سفارتکاری کا دروازہ کھلا ہے، لیکن سی این این کے ذرائع نے بتایا کہ حملے کا فیصلہ کئی دن پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تصدیق کی کہ:صدر ٹرمپ کے پاس آخری لمحے تک حملہ روکنے کا اختیار تھا، مگر انہوں نے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

