بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز...

ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے پر غور
ا

ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے پر غور، جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد صورتحال سنگین

تہران/واشنگٹن – امریکی فضائی حملوں میں ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات – نطنز، اصفہان اور فردو – کو مکمل طور پر تباہ کیے جانے کے بعد ایران کی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم حتمی فیصلہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کرے گی۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا کا سب سے اہم تجارتی آبی راستہ ہے، روزانہ عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کی بندش عالمی توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ متوقع ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر اسمٰعیل کوثری کے مطابق، آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ اب قومی سلامتی کونسل پر ہے، اور ضرورت پڑنے پر اسے بند کیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی B-2 بمبار طیاروں، ٹوماہاک میزائلوں اور زیرِ آب سے لانچ کیے گئے ہتھیاروں کی مدد سے یہ حملے کیے گئے، جنہیں Midnight Hammer کا نام دیا گیا۔

پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ آپریشن حکومت کی تبدیلی کے لیے نہیں بلکہ ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے تھا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ اب سفارتی حل کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ ایران مذاکرات میں شامل ہو، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز بند کی تو "سنگین نتائج” بھگتنا ہوں گے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان حملوں کو سفارت کاری کا قتل اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا،ہم مذاکرات کی میز پر تھے، مگر امریکہ نے بمباری کر کے سفارت کاری کو تباہ کر دیا۔

ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی جارحیت کے خلاف سخت موقف اپنائے، ورنہ بین الاقوامی قانون کی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین