ایس آئی ایف سی کے دوسرے سال میں توانائی کے شعبے میں نمایاں اصلاحات، خود انحصاری کی راہ ہموار
اسلام آباد – اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کے دوسرے سال میں توانائی کے شعبے میں اہم اصلاحات کی گئیں جن کی بدولت پاکستان نے توانائی میں خود انحصاری کی طرف مؤثر پیش رفت کی ہے۔
سال 2024-25 کے دوران بجلی چوری کے خلاف ٹاسک فورس نے بھرپور کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں 86 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہوئی۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائی گئی جس کے تحت پالیسی سطح پر کئی کلیدی فیصلے کیے گئے۔
ٹیرف میں توازن لانے کی اسکیم متعارف کرائی گئی جس کا مقصد عوامی اور صنعتی صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
توانائی کی پیداوار کے سلسلے میں سندھ کے شہر سکھر میں 150 میگاواٹ کا منصوبہ مکمل کیا گیا جبکہ گلگت بلتستان میں ایک میگاواٹ کا سولر منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا جو ماحول دوست بجلی فراہم کر رہا ہے۔
آزاد کشمیر میں سعودی عرب کی 101 ملین ڈالر کی امداد سے 70 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔
اسی طرح کراچی میں چین کی کمپنی ’سائنوٹیک سولر‘ نے ایس آئی ایف سی کے تعاون سے 3 گیگاواٹ کا سولر پلانٹ لگایا ہے، جہاں بیٹری اور الیکٹرک وہیکل (EV) ٹرک کی پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔
نارتھرن پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ اور ایک چینی کمپنی کے درمیان 300 میگاواٹ کے سولر منصوبے کے لیے 200 ملین ڈالر کا معاہدہ بھی طے پایا۔
شنگھائی الیکٹرک کی تھر کول بلاک 1 میں سرمایہ کاری سے مقامی کوئلے کے ذریعے توانائی میں خود انحصاری کی بنیاد رکھی گئی۔
براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت تین آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے، جس میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ماڑی پٹرولیم کی جانب سے غازیج فیلڈ میں گیس کی نئی دریافت، جبکہ اٹک، وزیرستان اور دادو میں بھی نئی دریافتیں ہوئیں، جو مقامی وسائل کے استعمال کو بڑھا رہی ہیں۔
توانائی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی ممکنہ نجکاری سے سروس ڈیلیوری میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ایس آئی ایف سی کی قیادت میں توانائی، پیٹرولیم اور قابلِ تجدید ذرائع میں اصلاحات نے پائیدار ترقی کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔

