پاکستان، چین اور روس کا ایران-اسرائیل جنگ بندی کا مطالبہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر سلامتی کونسل میں شدید ردعمل
اسلام آباد / نیویارک – پاکستان، چین اور روس نے مشترکہ طور پر مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرارداد منظور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو پیشگی حملے میں تباہ کر دیا ہے تاکہ ایران کے مبینہ جوہری عزائم کو روکا جا سکے۔ یہ حملہ اسرائیلی افواج کے تعاون سے کیا گیا، اور 1979ء کے بعد ایران کے خلاف مغرب کی سب سے بڑی فوجی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس حملے کو انتہائی خطرناک موڑ قرار دیا۔ سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فوری جنگ بندی اور سنجیدہ مذاکرات کی بحالی پر زور دیا۔
ایران کی درخواست پر بلائے گئے سلامتی کونسل اجلاس کے دوران امریکہ کے حملے کے ردعمل میں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی، جبکہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر دشمنی بند نہ کی گئی تو مزید سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
پاکستان نے ایران کے دفاع کے حق کی حمایت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ چین اور روس نے بھی امریکی حملے کی مذمت کی۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب، منیر اکرم نے سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کا استعمال اور یکطرفہ فوجی اقدامات صرف تصادم کو بڑھاتے ہیں۔ ہمیں فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ صورتحال مزید قابو سے باہر نہ ہو۔
ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے امریکہ اور اسرائیل پر سفارت کاری تباہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ (NPT) سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔
اس کے برعکس، اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے امریکی کارروائی کو سراہا اور کہا کہ ایران کے خلاف کارروائی نہ کرنا تباہ کن ثابت ہوتا۔
پاکستانی مندوب نے حملے کو خطرناک نظیر اور خطے و دنیا کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان، چین اور روس نے سلامتی کونسل میں ایک مسودہ قرارداد پیش کیا ہے، جس میں:فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، اور ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی حل کی حمایت شامل ہے۔
چینی سفیر فو کانگ نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کا حل صرف سفارتکاری سے ممکن ہے، طاقت سے نہیں۔ روسی سفیر نیبینزیا نے کہا کہ ہمیں ایک بار پھر امریکی جھوٹ پر یقین کرنے کو کہا جا رہا ہے جیسے عراق کے کیمیکل ہتھیاروں کا جھوٹ تھا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ سلامتی کونسل میں قرارداد پر کب ووٹنگ ہو گی، تاہم تینوں ممالک نے دیگر اراکین سے پیر کی شام تک اپنی تجاویز مانگی ہیں۔ یاد رہے کہ قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹ اور مستقل اراکین (امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین) کی طرف سے کوئی ویٹو نہ آنا لازمی ہوتا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ نے حملے کے بعد ہرمز کی خلیج بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو دنیا کی اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے OIC اجلاس میں کہا: ہم مذاکرات میں تھے، مذاکرات سے ایران نہیں بھاگا، امریکہ نے میزائل سے سفارت کاری کو ترک کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح مؤقف اختیار کرے کیونکہ عالمی اصول اور سفارت کاری براہِ راست خطرے میں ہیں۔

