اسلام آباد – اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے معاملے پر اتوار کی شب تک اجلاس جاری تھا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے ایران سے اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔
اس سے قبل پاکستان، چین اور روس نے مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی ایک مشترکہ قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے مطابق یہ قرارداد سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل رکن ممالک کو ان کی رائے کے لیے بھجوائی گئی ہے۔
قرارداد کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ایران میں پرامن جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی امن، سلامتی اور IAEA کے تحفظاتی نظام کے لیے خطرہ ہیں۔ اس میں تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول سفارتی حل اور ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل طور پر پُرامن نوعیت کی ضمانت کے بدلے تمام کثیرالطرفہ و یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستانی مشن کا کہنا تھا کہ الجزائر جیسے ممالک بھی اس قرارداد کی حمایت کر سکتے ہیں۔ قرارداد کو رسمی طور پر پیش کرنے سے قبل اس پر رکن ممالک کے تبصرے لیے جا رہے ہیں۔
ادھر دنیا ایران کے ممکنہ ردعمل کا انتظار کر رہی تھی جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ ایران نے سلامتی کونسل سے اس واضح اور غیرقانونی جارحیت پر سخت مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔
اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر ڈینی ڈینن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو مذمت نہیں بلکہ دنیا کو محفوظ بنانے پر سراہا جانا چاہیے۔

