اسلام آباد کا دوٹوک مؤقف: فضائی یا بحری حدود کسی جارحیت کے لیے استعمال نہیں ہونے دی
دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد:
پاکستان نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اس کی فضائی، زمینی یا بحری حدود کو کسی طور بھی اس حملے میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دفتر خارجہ اور اعلیٰ سرکاری ذرائع نے ان رپورٹس کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین یا حدود کو امریکہ یا اسرائیل نے ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جنگ یا بلاک سیاست کا حصہ نہیں بنے گا۔ نہ ہی ہم کسی دوسرے ملک کے فوجی تنازع میں فریق بننے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف روزِ اول سے واضح ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور پاکستان اپنی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر اسرائیلی حملوں کے خلاف ایران کے حق میں بھرپور سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق، 21 اور 22 جون کی درمیانی شب ایران کے جوہری مراکز پر امریکی حملے نے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی، اور پاکستان اس جارحیت کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد تمام متعلقہ فریقین سے مستقل رابطے میں ہے اور جنگ بندی کی کوششوں کو پُرامن، باعزت اور پائیدار سفارتی حل کے ذریعے آگے بڑھانا چاہتا ہے۔
بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے پاکستان امن، استحکام اور سفارت کاری کے ہر ممکن راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔

