بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیایرانی ایٹمی ادارے کی امریکی حملے پر شدید مذمت، قانونی کارروائی کا...

ایرانی ایٹمی ادارے کی امریکی حملے پر شدید مذمت، قانونی کارروائی کا اعلان
ا


ایٹمی تنصیبات پر بمباری کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار

دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران:
ایران کی جوہری توانائی تنظیم (AEOI) نے ہفتے کی صبح جاری کردہ سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں فورڈو اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے معاہدات، بالخصوص این پی ٹی، کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں کام کر رہی ہیں اور ان پر حملہ براہِ راست عالمی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ حملہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی غفلت—یا یوں کہیں کہ خاموشی پر مبنی شراکت—کے سائے میں کیا گیا ہے، جس نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز کیا۔

جوہری توانائی تنظیم نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری سے توقع ہے کہ وہ "جنگل کے قانون” پر مبنی اس طرز عمل کی مذمت کرے اور ایران کے جائز حقوق کے دفاع میں اس کا ساتھ دے۔
"ایران کی عظیم قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ دشمن کی سازشوں کے باوجود، قومی صنعت کی پیش رفت کو روکا نہیں جائے گا۔”

تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ "ایرانی عوام کے قانونی حقوق کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بشمول قانونی چارہ جوئی اپنے ایجنڈے میں شامل کر چکی ہے۔”

اس بیان سے قبل امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات—فورڈو، نطنز اور اصفہان—کو نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ ہم نے ایران میں تین جوہری مراکز پر کامیاب حملہ مکمل کیا۔ فورڈو پر مکمل بمباری کی گئی اور تمام طیارے اب ایرانی فضائی حدود سے باہر ہیں۔

یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پینٹاگون نے B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے خلیج فارس کی طرف روانہ کیے ہیں۔

پریس ٹی وی کے ذرائع کے مطابق، ایران کی زیرزمین تینوں جوہری تنصیبات پر حملہ ناکام بنا دیا گیا، سوائے داخلی و خارجی راستوں پر معمولی سطحی نقصان کے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ تینوں مراکز پہلے ہی خالی کرا لیے گئے تھے اور افزودہ یورینیم کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ کا بیان امریکی قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں اسرائیلی جارحیت اور امریکہ کی ممکنہ شمولیت پر غور کیا گیا۔
ٹرمپ پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ وہ دو ہفتوں میں ایران کے خلاف کارروائی پر حتمی فیصلہ کریں گے۔

پریس ٹی وی سے گفتگو میں ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اس وقت ایران اسرائیلی حکومت اور امریکہ کی مشترکہ جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے، جبکہ ٹرمپ جھوٹی فتح کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جنگ میں شمولیت کے بعد امریکہ نہ صرف جرم میں برابر کا شریک بن چکا ہے بلکہ اس کے علاقائی مفادات ایرانی ردعمل کی زد میں آ چکے ہیں۔
"جنگ بندی کی اپیلیں اور امن کی باتیں ایران کی فوجی طاقت کے خوف کا ثبوت ہیں، جو دراصل امریکی ناکامی کا اعتراف ہیں۔”

مقبول مضامین

مقبول مضامین