فورڈو، نطنز، اصفہان کو نشانہ بنانے کا اعلان، ایران کا دعویٰ—حملہ ناکام رہا
دانشگاه (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ – ایک بڑے اور خطرناک عسکری موڑ میں، امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے ایران کی تین حساس جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا: "ہم نے ایران میں تین جوہری مقامات—فورڈو، نطنز اور اصفہان—پر انتہائی کامیاب حملہ مکمل کیا۔ تمام طیارے ایرانی فضائی حدود سے باہر جا چکے ہیں۔ فورڈو پر مکمل بمباری کی گئی ہے۔”
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ امریکی فضائیہ کے B-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے ریاست میسوری میں وائٹ مین ایئر بیس سے خلیج فارس کی طرف منتقل کیے جا رہے ہیں۔
اب تک پینٹاگون یا امریکی حکومت کی جانب سے کسی سرکاری تصدیق کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم پریس ٹی وی کے ذرائع کے مطابق، فورڈو، نطنز اور اصفہان میں موجود زیرزمین جوہری تنصیبات کے اطراف فضائی دفاعی نظام بروقت متحرک کر دیا گیا، اور حملہ بڑی حد تک ناکام بنایا گیا۔ ذرائع کے مطابق، تمام تنصیبات پہلے ہی خالی کر دی گئی تھیں اور کسی جانی یا سنگین مالی نقصان کا خطرہ نہیں تھا، صرف بیرونی سطح پر معمولی نقصان ہوا۔
ٹرمپ کا یہ بیان امریکی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے فوراً بعد سامنے آیا، جس میں ایران کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت اور امریکہ کی ممکنہ شمولیت پر غور کیا گیا۔
قبل ازیں، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دو ہفتوں میں ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی پر حتمی فیصلہ کریں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر نے فوجی کارروائی کی ابتدائی منظوری پہلے ہی دے دی تھی لیکن ایران سے یورینیم افزودگی صفر کرنے کے امریکی مطالبے کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا تھا، جسے تہران نے سختی سے مسترد کر دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سرزمین پر موجود جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی بھی سنگین پامالی ہے۔
ایران نے امریکہ کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ وہ اسرائیلی جنگ میں مداخلت سے باز رہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ جو لوگ ایران، اس کی قوم، اور اس کی تاریخ کو سمجھتے ہیں، وہ اس قوم سے دھمکی کی زبان میں بات نہیں کرتے۔ ایران دباؤ میں نہیں آئے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو جان لینا چاہیے کہ اس کی کوئی بھی فوجی مداخلت ناقابلِ واپسی نتائج کا باعث بنے گی۔
اسرائیلی حکومت نے امریکہ کی پشت پناہی سے گزشتہ جمعے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا۔ ایک ہفتے سے زائد وقت گزرنے کے بعد، اب امریکہ نے اس جنگ میں اپنی شمولیت کو عملاً ظاہر کر دیا ہے۔
پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی اہلکار نے کہا کہ:
ایران اس وقت اسرائیل اور امریکہ دونوں کی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے، جبکہ ٹرمپ ایک فرضی فتح کا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ میں شامل ہو کر امریکہ نے اسرائیلی جرائم کا حصہ بننے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقائی مفادات کو بھی ایرانی ردعمل کے لیے کھول دیا ہے۔ امن کی اپیلیں اور جنگ بندی کے مطالبے دراصل ایران کی فوجی طاقت کے خوف کا اظہار اور امریکی ناکامی کا اقرار ہیں۔

