بدھ, فروری 18, 2026
ہومبین الاقوامیتہران میں تیسرا ہسپتال اسرائیلی حملے کا نشانہ

تہران میں تیسرا ہسپتال اسرائیلی حملے کا نشانہ
ت

ایک ہفتے کے دوران صحت کی سہولیات پر مسلسل حملے، عالمی ضمیر خاموش

دانشگاه (نیوز ڈیسک) تہران:
ایران کی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ جمعے کی صبح تہران کے ایک اور اسپتال کو اسرائیلی فضائی حملے میں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، جو صرف ایک ہفتے کے دوران صحت کے مراکز پر تیسرا حملہ ہے۔

وزارت کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر حسین کرم پور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں بتایا کہ
"20 جون 2025 کو صبح 4 بج کر 45 منٹ پر صہیونی حکومت نے تہران میں ایک اور اسپتال پر راکٹ فائر کیے۔ یہ ایک کھلی جارحیت ہے، جو عوامی صحت کی سہولیات کو براہ راست نشانہ بنانے کی تیسری مثال ہے۔”

اس سے قبل گزشتہ ہفتے تہران کے ایک بچوں کے اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔

وزارتِ صحت کے مطابق صرف ایک ہفتے میں تین اسپتالوں کے علاوہ کم از کم چھ ایمبولینسیں اور ایک صحت مرکز بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں جان بوجھ کر نشانہ بنائے گئے ہیں، جو بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ان حملوں کے دوران تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز سے وابستہ ایک خاتون ڈاکٹر، ان کے شوہر اور تین سالہ بچہ بھی شہید ہو چکے ہیں۔

طبی مراکز اور عملے پر ان حملوں کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے، کیونکہ ان سے نہ صرف زخمیوں اور مریضوں تک بروقت طبی رسائی ممکن نہیں رہتی بلکہ خود طبی عملہ بھی جان کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔

گزشتہ جمعہ سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران صہیونی حکومت نے مسلسل شہری علاقوں، اسپتالوں اور میڈیا اداروں کو نشانہ بنایا ہے — جو بین الاقوامی قوانین کی واضح اور دانستہ خلاف ورزی ہے۔

تاہم ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی برادری اور بین الاقوامی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین