ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ عوامی فلاح کو نظر انداز کرتا ہے، قرضوں پر انحصار بڑھا رہا ہے
دانشگاه (نیوز ڈیسک) کراچی:
اقتصادی ماہرین اور قوم پرستوں نے وفاقی بجٹ 2025-2026 کو غیر حقیقی تمناؤں اور تضادات کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ عام شہریوں کو کوئی حقیقی ریلیف دینے میں ناکام رہا ہے جبکہ اشرافیہ بدستور مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق بجٹ غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صحت اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں کوئی مؤثر سہولت فراہم کرنے سے قاصر رہا ہے۔ اس کے برعکس، براہ راست اور بالواسطہ نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے آٹا، گھی، چائے اور دودھ جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔
ماہرین کو اندیشہ ہے کہ یہ بجٹ غربت کم کرنے کے بجائے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ قومی دولت ایک بار پھر مراعات یافتہ طبقے — یعنی دولت مند صنعت کاروں، بااثر مینوفیکچررز اور مکار چیمبرز — کی طرف منتقل کی جا رہی ہے، جو اگرچہ بڑے وژن رکھتے ہیں مگر عام لوگوں کے لیے ان کے دل چھوٹے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی ایک عوامی سہولت بن چکی ہے جو ناقابل برداشت بجلی بلوں کی صورت میں عام افراد کو قدرے ریلیف دے رہی تھی۔ تاہم موجودہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کر کے عوام پر ایک اور کاری ضرب لگائی گئی ہے، جو انہیں مزید حاشیے پر دھکیل دے گی، ان کی جمع پونجی اور بچتیں متاثر ہوں گی۔
حکومتی دعووں کے برعکس ریاست اور عوام کے درمیان خلیج وسیع تر ہو رہی ہے جو ممکنہ سماجی خلفشار کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ حکومت کا سیاسی سرمایہ خطرے میں ہے۔ مہنگائی، اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات پر نئی لیویز اور سولر پینلز پر ٹیکس عوام کے لیے ایک اذیت ناک خواب بن چکے ہیں۔
اقتصادی ماہر اور علاقائی تجزیہ کار ڈاکٹر محمودالحسن خان نے بجٹ کے عددی پہلو سے ہٹ کر ایک عام آدمی کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اشرافیہ پر مبنی معیشت نے عام شہریوں کی زندگی میں بے چینی کی لہریں پیدا کر دی ہیں کیونکہ سیاسی کارٹیلائزیشن اور نام نہاد جمہوری گروہ — جن میں ایم پی ایز، ایم این ایز اور وزرا شامل ہیں — اپنی مراعات اور تنخواہوں میں بے جا اضافہ کر رہے ہیں، جو کہ ایک غلط پیغام دے رہا ہے۔”
سماجی کارکنان اور لبرل حلقوں نے ان سیاسی رہنماؤں کو مافیا قرار دیا ہے جو قومی خزانے کو اپنی ذاتی خواہشات کی تسکین کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر خان نے کہا کہ "وفاقی وزیر خزانہ کے پاس ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا کیونکہ ان کی تنخواہیں پہلے ہی ہر سال باقاعدگی سے بڑھتی رہی ہیں۔ اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیر خزانہ نے سیاسی بھائی چارے کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔”
انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام دوست منصوبے اور پالیسیاں متعارف کرائی جائیں جو نچلی سطح پر سماجی ترقی کو فروغ دیں۔ اس سلسلے میں چینی کمیونسٹ پارٹی (CPC) کی حکمرانی کا ماڈل، ازبکستان، جنوبی کوریا، ویتنام، برازیل اور کیوبا جیسے ممالک کے سماجی کاروباری ماڈلز، چین کے صحت عامہ اور غربت میں کمی کے ماڈلز، اور انڈونیشیا کے اسکولوں میں غریب طلبہ کے لیے مفت کھانے جیسے اقدامات سے سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ان اقدامات کو مالیاتی اصلاحات اور پالیسی میں ردوبدل کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ مائیکرو فنانسنگ کی بحالی، نجی شعبے اور صاحب حیثیت مذہبی طبقات کی شمولیت، مزارات اور خیراتی اداروں کا مؤثر استعمال، اور متوازن ترقیاتی ماڈل ہی وہ راستہ ہے جو ملک کو آگے لے جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صرف رئیل اسٹیٹ، تعمیرات اور شوگر سیکٹر کو ٹیکس سے استثنیٰ دینا بے سود ہوگا، کیونکہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز، بڑے سرمایہ دار اور انفرا اسٹرکچر مافیا قانون سازی میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اور ان کا عام لوگوں کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔
معروف ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسٹاک ایکسچینج، کارپوریٹ سیکٹر اور بینکوں جیسے بااثر طبقات نے ریکارڈ منافع کمایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "حکومت ہمیشہ برآمدات پر مبنی ترقی کی بات کرتی ہے، لیکن 2022 سے 2025 تک برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ان دو برسوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا — جو خطے میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے — لیکن برآمدات جوں کی توں رہیں، اور اتنی بڑی ترسیلات نے ٹیکس آمدنی میں بھاری خسارہ پیدا کیا۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی بجٹ کا بنیادی مقصد بظاہر آئی ایم ایف کی قسطوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے امداد کو یقینی بنانا ہے تاکہ معیشت کی بقا ممکن بنائی جا سکے۔ لیکن اگر یہی روش جاری رہی تو ہمیں 2027 کے بعد ایک بار پھر آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا — جو بعض حلقوں کے مطابق ایک بڑی جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی کا حصہ ہے، اور یہ بجٹ اسی سمت لے جا رہا ہے۔

