بدھ, فروری 18, 2026
ہومپاکستانحکومت کا اشرافیہ کے کلبز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا...

حکومت کا اشرافیہ کے کلبز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ
ح

دانشگاه (نیوز ڈیسک) اسلام آباد: حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے آغاز سے غیر اہل افراد پر معاشی لین دین کی پابندی لگانے کا منصوبہ شدید دھچکے کا شکار ہو گیا ہے، کیونکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے تیار کیے جانے والے آن لائن نظام کو ناکافی، غیر مؤثر اور ادھورا قرار دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سید نوید قمر نے جمعہ کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹر کے دورے اور نظام کے جائزے کے بعد کہا کہ آن لائن پورٹل ابھی تک مکمل ہونے سے کوسوں دور ہے۔ ان کے مطابق ایف بی آر کوئی قابلِ اعتماد نظام تیار کرنے میں ناکام رہا ہے، جو ٹیکس دہندگان کے استحصال سے پاک ہو۔

حکومت نے تجویز دی ہے کہ وہ افراد جن کے اثاثے اور دولت کے گوشوارے ان کی معاشی سرگرمیوں، جیسے پلاٹ یا گاڑی کی خرید، سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری یا بینک اکاؤنٹ رکھنے، کی بنیاد فراہم نہیں کرتے، انہیں ان لین دین سے روک دیا جائے گا۔

تاہم کمیٹی نے اس تجویز کی منظوری کو ایف بی آر کی جانب سے شفاف اور محفوظ نظام کی تیاری سے مشروط کیا ہے، جو کہ اپریل تک مکمل ہونا تھا مگر تاحال صرف ایک ناکارہ پروٹوٹائپ کی صورت میں موجود ہے۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے اور کمیٹی رکن اسامہ میلا کے مطابق یہ نظام اپنی موجودہ حالت میں قابلِ عمل نہیں اور مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے سے قاصر ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کے بعد کی پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ اگر یہ ترامیم منظور نہ ہوئیں تو حکومت کو 400 سے 500 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا ادارہ ان ترامیم کے نفاذ کے لیے مؤثر نظام بنانے میں ناکام رہا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر رشید لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ 1 جولائی سے یہ نظام نافذ نہیں ہو سکے گا اور موجودہ نظام ہی جاری رہے گا، جب تک نیا پورٹل مکمل نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی شرائط حکومت کی منظوری کے بعد ہی مؤثر ہوں گی۔

چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ ایف بی آر ابتدا میں صرف محدود تعداد میں ٹیکس دہندگان پر یہ نظام آزمائے، جس سے چیئرمین ایف بی آر نے اتفاق کیا۔

اس مجوزہ نظام کے تحت صرف وہی افراد گاڑیاں، پلاٹ، سیکیورٹیز یا دیگر مہنگی اشیاء خرید سکیں گے جن کے پاس قانونی، ظاہر شدہ آمدن موجود ہو۔ غیر اہل افراد کے لیے بینک اکاؤنٹس سے نقد رقم نکالنے پر بھی مخصوص حد مقرر کی جائے گی، تاہم انہیں 800cc تک گاڑی، بس، ٹریکٹر یا مخصوص حد تک حصص خریدنے کی اجازت ہو گی۔

یہ نظام چیئرمین ایف بی آر رشید لنگڑیال کی تجویز پر تیار کیا گیا تاکہ فائلر اور نان فائلر دونوں سے واجب الادا ٹیکس وصول کیا جا سکے۔ اس نظام میں ایک اہل شخص صرف اتنی حد تک ہی بڑی خریداری کر سکتا ہے جو اس کے گزشتہ ٹیکس ریٹرن اور دولت کے گوشوارے میں ظاہر شدہ اثاثوں کے 130 فیصد تک ہو یا وہ کسی نئے آمدنی کے ذریعے کو ثابت کرے۔

اشرافیہ کے کلبز بھی ٹیکس کے دائرے میں

ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حکومت نے قانون میں ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت وہ مہنگے تفریحی کلبز، جیسے اسلام آباد کلب اور گنز اینڈ کنٹری کلب، جن کی ممبرشپ فیس 10 لاکھ روپے سے زائد ہے، کو ٹیکس استثنیٰ حاصل غیر منافع بخش اداروں کی فہرست سے نکال کر ٹیکس کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کلب ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔ یہ کلب بیوروکریٹس اور سفارتکاروں کی تفریح کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اب اس کی فیس کروڑوں روپے تک پہنچ چکی ہے، اور صرف بااثر طبقہ ہی اس کی سہولیات سے مستفید ہو سکتا ہے، جبکہ یہ کلب ریاستی زمین پر قائم ہے۔

مزید برآں، کمیٹی نے بجٹ میں مجوزہ اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ کسانوں سے بالواسطہ انکم ٹیکس وصول کیا جائے، کیونکہ وفاقی حکومت آئینی طور پر زرعی آمدن پر ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین